Jab Bijli Ke Khambon Ke Sath Zameer Ke Satoon Bhi Gir Gaye
جب بجلی کے کھمبوں کے ساتھ ضمیر کے ستون بھی گر گئے
قدرت کا اصول ہے کہ وہ کبھی کبھی انسان کو اس کی اوقات یاد دلانے کے لیے اپنے جلال کی ایک معمولی سی جھلک دکھاتی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ کائنات کے مالک کے سامنے مٹی کا یہ پتلا ہمیشہ سے بے بس رہا ہے اور رہے گا۔ سندھ کے مخلتف اضلاع میں آنے والا حالیہ طوفان بھی قدرت کی طرف سے محض دس منٹ کا ایک جھٹکا تھا عوام اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے صبر و شکر کا دامن تھامے ہوئے تھے لیکن اصل المیہ قدرت کی آفت نہیں بلکہ اس آفت کے بعد جنم لینے والی وہ انسانی ساختہ قیامت تھی جس نے پانچ روز تک لاکھوں انسانوں کو زندہ درگور کیے رکھا۔ سوال یہ نہیں کہ طوفان کیوں آیا سوال یہ ہے کہ جب طوفان گزر گیا تو سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) کی انتظامیہ، عوامی نمائندے اور شہری انتظامیہ کہاں روپوش ہو گئے؟ سچ تو یہ ہے کہ اس دس منٹ کی ہوا نے برسوں کے دعوؤں، اربوں روپے کے بجٹوں اور طفل تسلیوں کے محلات کو پل بھر میں مٹی کا ڈھیر بنا دیا۔
جب ہم اس پانچ روزہ قیامت خیز بلیک آؤٹ کے ایک ایک پل کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں تو روح کانپ اٹھتی ہے اور یہ سوال ذہن کے پردے پر کسی ہتھوڑے کی طرح لگتا ہے کہ کیا ہم واقعی اکیسویں صدی کے ایک مہذب معاشرے میں سانس لے رہے ہیں یا ہم کسی ایسے تاریک دور میں لوٹ چکے ہیں جہاں جنگل کا قانون نافذ ہے؟ طوفان صرف دس منٹ کا تھا ہوا کی رفتار شاید کچھ تیز تھی لیکن اس نے سندھ کے کئی اضلاع بالخصوص سکھر ڈویژن اور پنو عاقل جیسے گنجان آباد شہروں کے پورے انتظامی ڈھانچے کو ننگا کرکے رکھ دیا۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا کہ سندھ کی دھرتی پر موسم نے جب بھی کروٹ لی ہویہاں کی تپتی ہوئی گرمیاں اور مون سون کی بارشیں صدیوں سے اس خطے کا مقدر ہیں لیکن ہر سال، ہر موسم میں اور ہر چھوٹی بڑی قدرتی آفت کے بعد عوام کو اسی بے بسی اور لاچاری کے جہنم میں کیوں جھونک دیا جاتا ہے؟
سب سے پہلے بات کرتے ہیں سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) کی جس کی نااہلی اب ایک طے شدہ حقیقت بن چکی ہے۔ ایک ایسی کمپنی جو صارفین سے بجلی کے بھاری بھرکم بل، فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز، اچھے بھلے ٹیکس اور نہ جانے کون کون سے پوشیدہ چارجز باقاعدگی سے وصول کرتی ہےاس کے پاس ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کوئی پلان کیوں نہیں ہوتا؟ جیسے ہی طوفان کے دس منٹ گزرے اور بجلی بند ہوئی، تو سیپکو کا پورا نظام ایسے مفلوج ہوگیا جیسے کسی نے اس کی رگوں سے خون نچوڑ لیا ہو۔ کیا ان کے پاس اتنی افرادی قوت، اتنی گاڑیاں اور اتنے جدید آلات موجود نہیں ہیں کہ وہ چند گرے ہوئے کھمبوں کو چوبیس یا اڑتالیس گھنٹوں کے اندر دوبارہ کھڑا کر سکیں؟
پانچ دن کا وقت کوئی معمولی وقت نہیں ہوتا۔ پانچ دن کا مطلب ہے ایک سو بیس گھنٹےاور ایک سو بیس گھنٹوں کا مطلب ہے سات ہزار دو سو منٹ اس طویل دورانیے میں سیپکو کے لائن مین، انجینئرز اور اعلیٰ افسران کہاں چھپے ہوئے تھے؟ کیا وہ اپنے ایئر کنڈیشنڈ بنگلوں میں جہاں بھاری بھرکم جنریٹرز اور سولر سسٹمز چمک رہے تھے بیٹھ کر عوام کی بے بسی کا تماشہ دیکھ رہے تھے؟ یہ سراسر آئینی اور اخلاقی جرم ہے۔ جب ایک صارف اپنی محنت کی کمائی سے بل ادا کرتا ہےتو وہ صرف بجلی کی قیمت نہیں دیتابلکہ وہ اس سروس کے تسلسل کی ضمانت خریدتا ہے۔
سیپکو انتظامیہ کا یہ رویہ یہ ثابت کرتا ہے کہ انہیں عوام کی زندگیوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ان کے لیے عوام محض ایک بھیڑ بکریوں کا گلہ ہے جسے جیسے چاہو ہانک دو۔ اگر چند پول گرنے پر پانچ دن لگ سکتے ہیں تو کل کو اگر کوئی بڑا حادثہ ہو جائے تو کیا یہ پورا خطہ ایک سال کے لیے اندھیرے میں ڈوب جائے گا؟ اور پھر ستم ظریفی دیکھیے کہ جب بحالی کا کام شروع بھی ہوا تو اس کی رفتار اتنی سست تھی کہ جیسے کوئی چیونٹی پہاڑ سر کرنے نکلی ہو۔ روز ایک نیا بہانہ، روز ایک نئی تاریخ، روز ایک نیا وعدہ کہ بس لائن چالو ہونے والی ہےگریڈ اسٹیشن پر کام چل رہا ہےتیکنیکی خرابی دور کی جا رہی ہے۔ یہ دلاسا بازیاں دراصل ان کی اپنی ناہلی کو چھپانے کا ایک بھونڈا طریقہ تھیں جس نے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا۔
اب آئیے ان عوامی نمائندوں کی طرف جو الیکشن کے دنوں میں عوام کے پیروں میں بیٹھنے کو بھی اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔ جو دعوے کرتے ہیں کہ ہم آپ کے خادم ہیں ہم آپ کے حقوق کی جنگ لڑیں گے ہم اس شہر کی تقدیر بدل دیں گے۔ کہاں تھے وہ خادم؟ جب پنوعاقل اور سندھ کے دیگر شہروں کی عوام گرمی........
