menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Chaar Logon Ka Bundan Mian

24 0
11.05.2026

چار لوگوں کا بندن میاں

آج پھر حسبِ معمول ریلوے کالونی کی پرانی سی چائے کی دکان پر بیٹھے تھے۔ سامنے ٹین کی چھت تھی جس پر دھوپ ایسے پڑ رہی تھی جیسے کسی غریب کے سر پر حکومت کے وعدے پڑتے ہیں بہت شور سے مگر بغیر اثر کے۔ چائے والے کریم بخش نے حسبِ عادت آدھی چینی اور پورا فلسفہ ڈال کر کپ بندن میاں کے سامنے رکھا اور بولا، میاں جی آج بڑے گم سم ہیں خیریت تو ہے؟

بندن میاں نے چائے کی سطح پر بنتے ٹوٹتے بلبلوں کو دیکھا اور دھیرے سے بولے۔ کریم بخش میں آج صبح سے ایک ہندسے میں پھنسا ہوا ہوں۔ کریم بخش چونکا ہندسہ؟ کہیں بجلی کا بل تو نہیں آگیا؟

بندن میاں مسکرائے نہیں بھئی آج میں چار کے چکر میں ہوں۔ کریم بخش نے قہقہہ لگایا۔۔ اوہ۔۔ یعنی چوتھی شادی کا ارادہ ہے؟

بندن میاں نے ایسی نگاہ سے دیکھا جیسے کوئی بزرگ قبرستان کے راستے میں ناچتے ہوئے آدمی کو دیکھتا ہے۔ پھر بولے۔ یہی تو مسئلہ ہے کریم بخش ہمارے برصغیر میں چار صرف ہندسہ نہیں پوری زندگی ہے۔ آدمی پیدا ہوتا ہے تو چار لوگ مبارک دینے آتے ہیں مرتا ہے تو چار کندھے ڈھونڈے جاتے ہیں اور ساری زندگی انہی چار لوگوں کے خوف میں گزار دیتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ چائے والا خاموش ہوگیا۔ کیونکہ برصغیر میں جب کوئی بزرگ فلسفہ شروع کرے تو غریب آدمی کو فوراً احساس ہوجاتا ہے کہ اب چائے ٹھنڈی ہوگی مگر گفتگو گرم۔

بندن میاں نے جیب سے پرانا رومال نکالا، چشمہ صاف کیا اور بولے، میں نے پوری زندگی میں دیکھا ہے کہ اس ملک میں آدمی کی قسمت چاہے نہ بدلےمگر محاورے نہیں بدلتے۔ ہر بات میں چار گھس آیا ہے۔ چار دن کی چاندنی، چار پیسے، چار باتیں، چار قدم، چار لوگ ایسے لگتا ہے جیسے ہماری پوری تہذیب کسی گنتی کے ماسٹر کے پاس گروی رکھی ہوئی ہو۔ پاس بیٹھا نذیر مستری بولا، میاں جی واقعی عجیب بات ہے۔

بندن میاں نے لمبی سانس لی، عجیب نہیں۔ نذیر صاحب، یہ ہماری اجتماعی نفسیات ہے۔ ہم لوگ مقدار سے زیادہ علامتوں میں جیتے ہیں۔ یہاں کوئی آدمی اگر دو کتابیں پڑھ لے تو لوگ کہتے ہیں چار کتابیں کیا پڑھ لیں خود کو گورنر سمجھنے لگا۔ اب یہ کسی نے نہیں بتایا کہ آخر گورنر بننے کے لیے چار ہی کیوں ضروری ہیں؟ پانچ کیوں نہیں؟ سب ہنس پڑے۔ بندن میاں نے انگلی اٹھائی، بس یہی تو مزاحیہ المیہ ہے۔ برصغیر میں ہنسنے والی باتیں اکثر رونے والی ہوتی ہیں۔ اتنے میں سامنے سے ایک نوجوان گزرا۔ بال ایسے کھڑے تھے جیسے بجلی کے کھمبے پر بیٹھے کبوتر کو کرنٹ لگ گیا ہو۔ ہاتھ میں موبائل، آنکھوں میں تکبر اور چال میں ایسا غرور جیسے ابھی ابھی دنیا خرید کر آیا ہو۔ بندن میاں نے اسے دیکھ کر کہا۔۔ یہ دیکھو۔۔ ابھی دو پیسے کمائے ہوں گے اور اب محلے میں ایسے چل رہا ہے جیسے اسٹیٹ بینک اسی کے دادا نے بنایا تھا۔

کریم بخش ہنسا۔۔ میاں جی آج کل یہی زمانہ ہے۔ بندن میاں نے افسردگی سے کہا، نہیں کریم بخش زمانہ ہمیشہ ایسا ہی تھا۔ پہلے لوگ چار پیسے کما کر اوقات بھولتے تھےاور اب فالوورز بڑھا کر بھولتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے غرور جیب میں ہوتا تھا........

© Daily Urdu (Blogs)