menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kant Se Qom Tak: Falsafe Ka Riyasti Istemal

24 0
19.03.2026

کانٹ سے قم تک: فلسفے کا ریاستی استعمال

موجودہ عالمی و علاقائی تناظر میں جب ایران پر امریکی۔ اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایک جائز اینٹی امپیریلسٹ موقف سامنے آتا ہے، اسی لمحے ایک فکری پیچیدگی بھی جنم لیتی ہے: کیا ہم اس مزاحمت کے نام پر ایرانی مذہبی ریاست کے اندر موجود جبر، آمریت اور فکری استبداد کو نظرانداز کر دیں؟

حالیہ دنوں میں علی لاریجانی اور عباس عراقچی جیسے ریاستی کرداروں کو ان کی فلسفیانہ دلچسپی، خصوصاً Immanuel Kant پر ان کی تحریروں کے حوالے سے جس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، وہ اس سوال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔

یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ گویا علمی وابستگی خودبخود سیاسی روشن خیالی کی دلیل ہے، حالانکہ تاریخ ہمیں بار بار یہ سکھاتی ہے کہ فلسفہ صرف ایک فکری مشغلہ نہیں بلکہ اقتدار کے جواز کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فکری دیانت کا تقاضا ہے کہ ہم سامراجی حملے کی مخالفت اور آمریت کی تنقید، دونوں کو بیک وقت اور بغیر کسی ابہام کے برقرار رکھیں۔

ایران کے حالیہ حالات میں جب علی لاریجانی کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی اور اس کے ساتھ عباس عراقچی کا نام بھی زیرِ بحث آیا تو پاکستان اور بین الاقوامی بائیں بازو کے کچھ حلقوں میں ایک خاص نوعیت کی فکری الجھن پیدا ہوئی۔ ایک طرف امریکی۔ اسرائیلی سامراجی حملے کی مذمت ایک درست اینٹی امپیریلسٹ موقف کے طور پر سامنے آئی، لیکن دوسری طرف بعض دانشوروں نے ان شخصیات کو ان کے فلسفیانہ شغف، خصوصاً Immanuel Kant پر ان کی تحریروں کی بنیاد پر اس انداز میں پیش کرنا شروع کیا کہ گویا وہ ایرانی مذہبی ریاست کے اندر کسی روشن خیال یا ترقی پسند رجحان کے نمائندہ تھے۔ حتیٰ کہ بعض حلقوں میں یہ تاثر بھی دیا گیا کہ لاریجانی کی موت "فلسفے کی موت" ہے، جو نہ صرف ایک مبالغہ آمیز دعویٰ ہے بلکہ سیاسی و نظریاتی ابہام کو بھی جنم دیتا ہے۔

اصل مسئلہ یہاں یہ ہے کہ کسی فرد کا فلسفے سے شغف یا کسی بڑے مفکر پر علمی دسترس، اس کے سیاسی کردار اور ریاستی عمل کو خودبخود ترقی پسند نہیں بنا دیتی۔ لاریجانی اور عراقچی ایرانی ریاست کے کلیدی پالیسی ساز اور طاقت کے ڈھانچے کا حصہ رہے ہیں، وہ محض فلسفے کے طالب علم نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کے معمار اور محافظ تھے جسے ناقدین مذہبی آمریت قرار دیتے ہیں۔ اس نظام نے نہ صرف سیکولر اور بائیں بازو کی سیاست کو کچلا بلکہ مذہبی دائرے کے اندر موجود جمہوری رجحانات کو بھی برداشت نہیں کیا۔ ایران میں سیاسی تکثیریت، اظہارِ رائے کی آزادی، خواتین کے حقوق، نسلی و مذہبی اقلیتوں کے مسائل اور محنت کش طبقے کی جدوجہد، ان تمام میدانوں میں ریاستی جبر کی طویل تاریخ موجود ہے۔ ایسے میں ان شخصیات کو محض ان کے فلسفیانہ ذوق کی بنیاد پر گلوریفائی کرنا دراصل اس پورے جبر کے ڈھانچے کو نظرانداز کرنے کے مترادف........

© Daily Urdu (Blogs)