menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pakistan Ki Taraqi Ka Manshoor Aur Budget 2026

28 0
29.06.2026

پاکستان کی ترقی کا منشور اور بجٹ 2026

کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی کے لیے ایک ایسا بجٹ تیار کرنا ناگزیر ہے جو صرف وقتی اعداد و شمار کا گورکھ دھندا نہ ہو، بلکہ اس میں گہری احتیاط، بہترین مفکرین کی دانشمندی اور ایک وسیع عالمی وژن (Global Vision) شامل ہو۔ ترقی پسند قومیں اپنے بجٹ کا رخ محض بیرونی قرضوں کی شرائط یا اصرار پر نہیں موڑتیں، بلکہ اپنے ملکی تھنک ٹینکس (Think Tanks) کے مشوروں کو اولین ترجیح دیتی ہیں۔ معیشت کو اصل فروغ تب ملتا ہے جب حکمران اور سیاست دان عالمی معاشی رجحانات کا گہرا شعور رکھتے ہوں اور عوام کی بنیادی ضروریات، خصوصاً تعلیم، صحت اور ریونیو (آمدن) کی پائیدار پیداوار، کو بجٹ کا محور بنائیں۔

بدقسمتی سے، اگر پاکستان کے حالیہ بجٹ پر غور کیا جائے، تو اس میں مقامی تھنک ٹینکس کی آراء اور طویل مدتی معاشی اصلاحات کے بجائے صرف بیرونی دباؤ کے تحت ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کی روایتی لکیر ہی نظر آتی ہے۔

جب ہم دنیا کے ان ممالک پر نظر ڈالتے ہیں جن کا بجٹ اور معاشی ماڈل اس وقت بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، تو چند نام سرفہرست آتے ہیں۔

ترقی پسند قوموں کے بجٹ بنانے کی حکمتِ عملی کو اگر دیکھا جائے تو سنگاپور اور ناروے کی مثالیں سب سے نمایاں ہیں۔ سنگاپور اپنے محدود رقبے اور قدرتی وسائل کی کمی کے باوجود صرف افرادی قوت (Human Capital) اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر دنیا کا بہترین بجٹ تیار کرتا ہے، جہاں حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کی قومی حکمتِ عملی، تعلیم اور شہریوں کی ہنر مندی (SkillsFuture) پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو محور بنایا گیا ہے تاکہ ان کا ہر شہری عالمی معاشی دوڑ کا مقابلہ کر سکے۔

دوسری طرف، ناروے نے اپنے تیل کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو وقتی اخراجات میں اڑانے کے بجائے دنیا کا سب سے بڑا "Sovereign Wealth Fund" (قومی سرمایہ کاری فنڈ) قائم کر دیا ہے، جس کے تحت بجٹ میں موجودہ سال کے ساتھ ساتھ مستقبل کی نسلوں کا مالیاتی تحفظ بھی یقینی بنایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان دونوں ممالک کا معاشی ماڈل کسی بیرونی ادارے یا ائی ایم ایف جیسے دباؤ سے آزاد ہو کر اپنے ملکی تھنک ٹینکس کی گہری حکمتِ عملی کے مطابق کام کرتا ہے۔

یہ سوچنا بالکل فطری ہے کہ ایک ترقی پذیر ملک ہونے کے ناطے پاکستان کے پاس جدید معاشی منصوبہ بندی کے لیے تھنک ٹینکس کی کمی ہوگی، یا پھر ان اداروں میں صرف روایتی ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور فوجی افسران ہی شامل ہوں گے۔ لیکن جب ہم گہری تحقیق کرتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہماری حکومت نے خود........

© Daily Urdu (Blogs)