Attiya Syed Ka Nizam e Fikr
عطیہ سید کے فکری نظام کی بنیاد ان کے ماحول، ذاتی تجربات، علمی مشائدات اور ادبی ذوق کے امتزاج سے تشکیل پاتی ہے۔ بچپن ہی سے ان میں غور و فکر اور مشاہدے کی ایک خاص صلاحیت موجود تھی جو اگے چل کر ان کے ادبی شعور کا بنیادی حوالہ بنی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ انہوں نے محض کہانیاں نہیں لکھیں بلکہ انسانی باطن، وجودی سوالات اور نفسیاتی پیچیدگیوں کو اپنی تحریروں کا مرکز بنایا ہے۔
عطیہ سید کے فکری و ادبی شعور کی تشکیل میں ان کے گھر یلو ماحول نے بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کے والد ڈاکٹر سید عبداللہ اردو زبان و ادب کے محسن، ممتاز محقق، نقاد اور ماہر تعیلم تھے، انہوں نے اپنی علمی بصیرت اور تنقیدی شعور سے اردو ادب کو ایک نئی جہت بخشی۔ ڈاکڑ سید عبد اللہ نے اپنے دونوں بچوں کے نام عظیم ادبی شخصیات کے ناموں پر رکھے اور ان کو علم اور کتابوں سے گہرا شگف تھا، اپنی بعض کتابوں کے عنوانات کی ترتیب کی ذمہ داری وہ اپنی صاحبزادی عطیہ سید کو دیتے۔ ان کے والد نے صرف علم دوست تھے بلکہ اپنی بیٹی کے باطن کو بیدار رکھنے کے لیے فکری اور روحانی جملوں کے ذریعے ان کی تربیت بھی کرتے تھے۔ وہ اکثر محبت بھرے انداز میں علامہ اقبال کا یہ شعر عطیہ سید کو کہا کرتے تھے۔۔
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کردے کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
یہ بظاہر ایک دعا محسوس ہوتی ہے مگر دراصل اس کے اندر ایک گہری فکری جہت پوشیدہ ہے کیونکہ یہ ہی طوفاں انسان کو اپنے باطن سے اشنا کرتا ہے، اسے زندگی کے حقیقی معنی سمجھاتا ہے اور اس کے اندر احساس وشعور کی انکھہ کھولتا ہے۔
اسی دعا نے گویا عطیہ سید کی شخصیت میں حساسیت، باطنی گہرائی اور انسانی دکھ کے ادراک کو جنم دیا۔ عطیہ سید کی والدہ بھی بہت پڑھی لکھی، علم دوست خاتون تھیں۔ جنہوں نے اس زمانے میں منشی فاضل کر رکھا تھا۔ والدہ نے ہی عطیہ سید کو اپنے پہلے افسانے پر نہایت مثبت رائے دی اور یہ کارآمد مشورہ دیا کہ اس کو فنون میں شائع کرواؤ۔
ایسے نایاب علمی و ادبی ماحول میں ایک اور اہم پہلو جس نے عطیہ سید کے ادبی شعور کو بیدار ہونے میں اہم کردار ادا کیا وہ تھا ان کا قوت مطالعہ۔ میٹرک کے دورانیہ میں عطیہ سید نے تمام نامور اردو ادب کا مطالعہ کر لیا تھا اور جب وہ کالج پہنچیں تو اس دورانیہ میں انہوں نے تمام مشہور عالمی ادب کا گہرا........
