Mohsin Naqvi Ke Khadshat, Naye Soobay, Nara Ya Zaroorat?
محسن نقوی کے خدشات، نئے صوبے، نعرہ یا ضرورت؟
مشہور فرانسیسی مفکر اور فلسفی والٹیئر کا ایک تاریخی قول ہے کہ "حکومتوں کی سب سے بڑی نااہلی یہ نہیں ہوتی کہ وہ عوام کو خوش نہیں رکھ پاتیں، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ وہ حالات کی سنگینی کو جانتے ہوئے بھی تبدیلی کے فیصلے نہیں کرتیں اور معاملات کو وقت کے دھارے پر چھوڑ دیتی ہیں"۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی نظام وقت اور حالات کی جدید ضرورتوں کے مطابق خود کو تبدیل نہیں کرتا، تو وہ اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے، تو یہاں زندہ رہنے کی ایک ایسی حیرت انگیز، طویل اور اعصاب شکن جدوجہد نظر آتی ہے جس کی مثال دنیا کی کسی اور ریاست میں نہیں ملتی۔ بیالوجی میں ایک تصور پایا جاتا ہے کہ اگر دنیا پر کوئی بڑی ناگہانی آفت، موسمیاتی تبدیلی یا خدانخواستہ کوئی ایٹمی تباہی آ جائے، تو زمین کی سطح پر صرف ایک ہی مخلوق زندہ بچے گی اور وہ ہے"کاکروچ"۔ وجہ اس کی انتہائی سخت جان ہونا اور ہر قسم کے بدترین ماحول میں خود کو ڈھال لینا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ حال ہی میں اسلام آباد اکنامک سمٹ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اسی تلخ استعارے کا استعمال کرتے ہوئے ملکی انتظامی نظام، اشرافیہ کی سوچ اور نوجوانوں کی حالتِ زار پر گہرے خدشات کا اظہار کیا ہے، جس نے اس پرانی بحث کو ایک بالکل نیا رخ دے دیا ہے۔ پاکستان میں "کاکروچ" جیسی سخت جانی اور لچک دو مختلف کناروں پر نظر آتی ہے، لیکن محسن نقوی نے اس لفظ کو ملک کے غیور نوجوانوں اور عوامی ردِعمل کے تناظر میں ایک سنگین انتباہ کے طور پر استعمال کیا ہے۔
ہمارے سیاستدانوں کی لچک اور ہر بحران کے بعد........
