Wo Jis Ne Wafa Ki
وابراہیم الذی وفی، "اور وہ ابراہیم جس نے وفا کی" کس کے ساتھ وفا کی؟ اپنے خالق و مالک حقیقی کے ساتھ۔ بچپن سے لے کر زندگی کے آخری سانس تک فرمانبرداری کا حق ادا کیا۔
"اِنِّیُ وَجَّهُتُ وَجُهِیَ لِلَّذِیُ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الُاَرُضَ حَنِیُفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الُمُشُرِكِیُنَۚ○
میں نے تو یکسو ہو کر اپنا رخ اس ہستی کی طرف کرلیا، جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں"۔
یہ اعلان کرکے راہ توحید اختیار کرلی تو رب کائنات نے تسلیم و رضا کے اس پیکر کی وفاداری پر ایسی مہرِ تصدیق ثبت کی کہ اپنی آخری اور تاقیامت قائم رہنے والی کتاب کو اس پر گواہ بنا دیا۔ قرآن پاک کی روشنی میں دیکھا جائے تو ابراہیمؑ وہ ہستی ہیں جنھوں نے اپنا تن، من، دھن اور اولاد سب اللہ کی راہ میں قربان کرکے بندگیٔ رب کا اعلٰی نمونہ پیش کیا۔ انھون نے جب معبود حقیقی کو پالیا اور خلیل اللہ کا لقب مل گیا تو حقِ دوستی ادا کرنے کی ٹھان لی۔ تنہا اپنے باپ، خاندان اور قوم کو للکارا کہ میرے رب واحد کو چھوڑ کر مٹی اور پتھر کے خود ساختہ خداؤں کی پوجا کیوں کرتے ہو؟ پھر شرک کی گندگی کو برداشت نہ کرسکے........
