Saas Ka Manfi Roop
میری بہونے مجھے میرے بیٹے کے سامنے کہا ہے کہ اللہ کرے تم مر جاؤ، تم وہ ڈائن ہو جو اپنی اولاد کو بھی کھا جاتی ہے اور وہ اسے بازو سے پکڑ کر وہاں سے کمرے میں لے گیا اور میں تو شاید اب واقعی مر چکی ہوں۔
میرا نام کنیز فاطمہ ہے۔ میری عمر پینسٹھ سال ہے اور تین شادی شدہ بچوں کی ماں ہوں۔ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ میں پنجاب کے ایک دیہات کی رہائشی ہوں۔ جوانی میں مدرسہ سے عامہ خاصہ کا کورس کیا اور پھر بیاہ کر سسرال آگئی۔ سکول پرائمری پاس ہوں۔ تب پرائمری ایجوکیشن ہی بہت ہوتی تھی۔
آج پہلی بار ہماری ساس بہو کی لڑائی نہیں ہوئی۔ لیکن یہ آخری بار تھی۔ لڑائی کی رو داد میری بہو کی زبانی۔ جب مرنے کی بد دعا دی تب ہی میرا بیٹا گھر آیا تھا۔ اس سے پہلے ہم بہت تماشا کر چکی تھیں۔ جو اس نے کہا وہ بتاتی ہوں۔ میرا کہا ہوا سب کچھ آپ خود سمجھ جائیں گے۔
اماں آپ کیسی ماں ہو؟ بیٹے کو نو سال اٹلی سے گھر واپس نہیں آنے دیا کہ تمہاری بہنوں کی شادی کرنی ہے۔ گھر بنانا ہے۔ وہ وہاں مزدوریاں کرتا رہا، انگور کے باغوں میں کاما بنا رہا اور تم یہاں اپنی اوقات سے باہر ہوکر اونچے گھروں میں بیٹیوں کے رشتے جوڑتی رہی۔ اپنے بہن بھائی تمہیں حقیر لگنے لگے۔ ان سے دور ہوگئی۔
وہ جتنے اونچے تھے تم نے اتنے ہی انکے گھر جہیز سے بھرے۔ چھوٹی والی کے گھٹیا سسرالیوں نے گاڑی مانگی تم نے بڑی کو بھی ساتھ دے دی کہ اسے طعنہ نہ ملے۔ بڑا بھائی تھا دونوں بہنوں کی شادی میں اس لیے نہ شریک ہو سکا کہ پہلی کی بار تو کاغذ نہیں بنے تھے اور دوسری کی بار تو تم نے اخراجات کی حد کر دی تھی اسے مقروض تک کر دیا تھا۔
تمہیں کیا مل گیا یہ سب کرکے؟ بہو لے کر آئی ہو تو اسکے اٹھنے بیٹھنے، چلنے، سونے جاگنے، پہننے، موبائل استعمال کرنے پر تم نے کرفیو لگا رکھا ہے۔ مجھے وہ دن مرتے دم تک نہیں بھولنے جب حمل کے........
