Kya Hum Sanjeeda Qaum Hain?
کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں
لفظ کاسمیٹک سرجری (جراحی برائے تزئین) سے قارئین بخوبی واقف ہونگے اور اکثر ایسے ہونگے جو اس عمل سے گزرنے کی خواہش رکھتے ہونگے یہ جانے بغیر کے "حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے اور خوشبو آنہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے"، کچھ ایسے بھی ہونگے جو اس حقیقت سے خوب واقف ہونگے۔ کسی بھی معاملے کی جزیات کو جانے بنا اس کی نوعیت کو سمجھنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس حقیقت سے آپ نظریں چرائیں لیکن بغیر جزیات جانے تدبیر تادیر کارگر ثابت نہیں ہوسکتی۔ سوچنے سمجھنے کی عمومی صلاحیت تو ہر انسان کو میسر ہوتی ہے لیکن جن معاشروں میں بے یقینی، لاتعداد چھوٹے مسائل، عدم برداشت اور اس طرح کی چھوٹی چھوٹی بیماریاں ہوتی ہیں وہاں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مخصوص مقاصدکے حصول تک محدود ہوتی ہے۔
تعلیمی نظام اورعدل کا نظام مذکورہ صلاحیتوں کو منظم اور مستحکم کرنے میں قلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور قوموں کے مزاجوں میں توازن، تحمل اور تدبر پیدا کرتے ہیں جن کی بنیادوں پر قوموں میں سنجیدگی پیدا ہوتی ہے اور تدبیر تادیر کارگر ثابت ہوتا ہے۔ ایسی قومیں بروقت فیصلے کرتی ہیں کیوں کہ ان کے پاس سوچنے اور پرکھنے کا سلسلہ ہمیشہ جاری و ساری رہتا ہے۔ وہ قومیں جو کھلکھلا کر ہنسنے پر مسکرانے کو ترجیح دیتی ہیں جو یہ واضح کرتا ہے کہ قوم کو اس بات ادراک ہے کہ اپنی توانائیوں کا صحیح استعمال کہاں کب اور کیسے کرنا ہے اور اس سے بڑھ کر اپنا کیسا تاثر مجلس میں چھوڑ کر اٹھنا ہے، ہنسنے کی بجائے مسکرانا اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق بھی ہے۔
شائد ہم آج تک ترقی کا پیمانہ طے نہیں کر پائے کیونکہ نا تو ہمارا تعلیمی نظام ہمیں کوئی ایسا بڑا نام دے سکا ہے کہ جس نے دنیا میں اپنے علم کی بنیاد........
