Jangi Halaat Aur Zaraye Iblagh
جنگی حالات اور ذرائع ابلاغ
امریکی صدر ڈولڈ ٹرمپ کچھ روز قبل تک ساری دنیا میں اپنے امن پسند ہونے کا ڈھول دونوں ہاتھوں سے پیٹتے سنائی دے رہے تھے (اور اپنے آپ کو دنیا کی خوشحالی کا ٹرمپ کارڈ بتارہے تھے) جس کی وجہ پاکستان پر بھارتی جارحیت کے باعث پیدا ہونے والی سنگین صورتحال تھی (کیونکہ دونوں ممالک ایٹمی طاقت ہیں)۔ اس صورتحال میں بھارت کو اپنی جان بچانے کیلئے امریکہ کا سہارا لینا پڑا، جس کا تذکرہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً اپنی ہر تقریر میں کیا کہ کس طرح سے انہوں نے دونوں ممالک میں بیچ ثالثی کا کردار ادا کیا اور دنیا کو دو ایٹمی طاقتوں کے ٹکراؤ سے بچایا۔
اس ساری صورتحال کو بھارتی ذرائع ابلاغ نے ساری دنیا میں جھوٹ کا لبادہ پہنا کر بڑھا چڑھا کر اپنی افواج کی کارگردگی کو پیش کیا، لیکن جھوٹ تو جھوٹ ہوتا ہے جیسے جیسے وقت گزرتا گیا جھوٹ کا رنگ اترتا گیا اور بھارتی ذرائع ابلاغ کو بھی اپنی فوج کی طرح منہ کی کھانی پڑی اور ساری دنیا میں جگ ہنسائی کا سبب تقریباً پورا بھارت ہی بن کر رہ گیا، کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ انسان کو بغیرت ہونا چاہئے عزت تو آنی جانی چیز ہے۔ دوسری طرف پاکستانی افواج نے اپنی کارگردگی کا لوہا ساری دنیا میں ثبوتوں کے ساتھ پیش کرکے منوایا، جس پر دنیا نے افواج پاکستان کی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ یہاں ہم اپنے ذرائع ابلاغ کا بھی بھرپور مثبت کردار کو بھی سراہائیں گے کہ جنہوں نے حالات کو انتہائی تدبر اور فہم کے ساتھ عوام تک پہنچایا۔
پاکستانیوں نے ہمیشہ سنگین نوعیت کی معاملات(خارجی ہوں یا داخلی) میں انتہائی بردباری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ عوام ہو یا پھر سیاسی قیادت ملک کی بقاء کیلئے سب سرجوڑ کرایک ساتھ بیٹھ جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارا ایسا گٹھ جوڑ (ہم آہنگی) دیکھ کر کالی بھیڑوں کی بھی ہمت جواب دے جاتی ہے کہ وہ کسی ایسی حرکت کی مرتکب ہوں جس سے وہ نمایاں ہوجائیں اور........
