menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Guldasta e Ashraf

65 0
05.03.2026

تبلیغ کا کام قرنِ اول کا ہیرا ہے۔ 1857ء کے غدر میں ہندی مسلمانوں کے ہاتھ سے عزت و شرف کے مظاہر نکل جانے اور عامۃ الناس کے بے یار و مددگار ہوجانے کے بعد جب مصلحینِ امت نے کچھ کرنے کا حوصلہ پکڑا تو اُنھوں نے ادارے بناکر تعلیم و ہنر دینے کا سوچا۔ ایمان وہ مایا ہے جس نے دنیا بھر میں بکھری امتِ مسلمہ کو ایک قوم بنا رکھا ہے۔ قعرِ مُذلت میں گرتے جاتے اِن ہندی مسلمانوں کے جب ایمان پہ آ پڑی اور مشنریوں کی کوششوں سے مسلمان مسیحیت قبول کرنے لگے تو خالص حفاظتِ ایمان کی تحریکیں بھی شروع ہوئیں۔

خدا نے حضرت جی مولانا محمد الیاس کاندھلوی علیہ الرحمہ سے ایسا کام لیا جسے قبولِ عام نصیب ہوا۔ جون جون سے لوگ اِس تحریک کے ساتھ جڑتے چلے گئے، خدا نے دستگیری فرمائی اور اُن کی زندگیاں بدلیں۔ اِن زندگیوں کے بدلنے نے دنیا بھر میں ایک مثبت حرکت پیدا کر دی۔ تحریکِ ایمان کی اِس عالمگیر حرکت نے مایوسی اور یاس کو آس میں بدل دیا۔ جن نیک نہاد لوگوں نے اِس عالی نبوی کام کے لیے اپنی زندگیوں کو کھپا دیا وہ عزیمت کے راستے کے روشن پتھر ہیں۔ خدا اُن کی کاوشوں کا بہترین بدلہ عطا فرمائے۔

دعوت و تبلیغ کے اِن بڑے لوگوں کا مختصر سوانحی تذکرہ میں نے 2001ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب Words & Reflections of Molana Muhammad Ilyas کے آخر میں Personalities کے عنوان کے تحت کیا ہے۔ اِس سے پہلے انگریزی میں اِس تسلسل کے ساتھ اِس انداز میں تبلیغی اکابر کی سوانح کسی نے مرتَّب نہیں کی تھی چنانچہ مجھے یہ کام بغیر کوئی مثال سامنے ہوئے کرنا ٹھہرا۔ عام معلوم ہے کہ تبلیغ والوں میں لکھا پڑھی اور ریکارڈ رکھنے کو ایک طرح سے تقویٰ و للہیت کے خلاف سمجھا جاتا ہے اِس لیے مجھے بہت مشکلات پیش آئیں۔ اُن دنوں سوشل میڈیا سافٹ ویئر نہ تھے اور انٹرنیٹ بھی ای میل کی حد تک موجود تھا۔

گوگل ابھی آیا ہی نہ تھا اور براؤزنگ کے لیے انٹرنیٹ ایکسپلورر اور نیٹ سکیپ ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ کئی لوگوں سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے میں نے دنیا بھر میں ڈاک سے خطوط بھیجے اور ٹیلیفون اور فیکس استعمال کیا۔ بھائی افضل صاحب سلطان فونڈری والے، ڈاکٹر محمد نواز، قاضی عبدالمجید، مفتی زین العابدین، مولانا محمد احمد انصاری اور مولانا سعید احمد خاں مہاجر مکی........

© Daily Urdu (Blogs)