Zindagi Dukh De To Kya Karen?
زندگی دُکھ دے تو کیا کریں؟
زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ کبھی یہ بہار کی نرم ہوا کی طرح دل کو سکون دیتی ہے اور کبھی تپتے صحرا کی دھوپ بن جاتی ہے۔ انسان جب خوش ہوتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ دنیا خوبصورت ہے مگر جب دکھ اس کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو وہی دنیا بے رنگ محسوس ہونے لگتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا دوسرا نام ہی تبدیلی ہے۔ اگر خوشی مستقل نہیں تو دکھ بھی ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔
انسان اپنی زندگی میں مختلف طرح کے دکھ جھیلتا ہے۔ کسی کو غربت کا دکھ ہوتا ہے۔ کسی کو تنہائی کا۔ کوئی اپنے پیاروں کے رویوں سے ٹوٹ جاتا ہے اور کوئی اپنی ناکامیوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ بعض دکھ ایسے ہوتے ہیں جو زبان سے بیان نہیں کیے جا سکتے۔ وہ خاموشی سے اندر رہتے ہیں اور انسان کے چہرے کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔ دکھ انسان کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آخر زندگی ہے کیا؟
مشہور فلسفی سقراط نے کہا تھا: "مشکل زندگی ہی انسان کو خود سے ملواتی ہے"۔
یہ جملہ دراصل زندگی کے گہرے فلسفے کو بیان کرتا ہے۔ انسان خوشیوں میں اکثر اپنے آپ کو بھول جاتا ہے مگر دکھ اسے اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔ دکھ انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ کتنا مضبوط ہے اور اس کے اندر کتنی برداشت موجود ہے۔
قرآن پاک میں بار بار صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے"۔
یہ آیت انسان کو امید دیتی ہے کہ ہر اندھیری رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔ اگر زندگی میں صرف خوشیاں ہوتیں تو شاید انسان صبر، دعا اور احساس کی حقیقت کبھی نہ سمجھ پاتا۔
دکھ اور خوشی دراصل ایک ہی راستے کے دو مسافر ہیں۔ اگر انسان نے کبھی دکھ نہ دیکھا ہو تو وہ خوشی کی قدر بھی نہیں جان سکتا۔ جس نے بھوک دیکھی ہو وہ روٹی کی قیمت سمجھتا ہے۔ جس نے تنہائی جھیلی ہو وہ محبت کی اہمیت جانتا ہے۔ جس نے........
