Parveen Shakir Ki Nasri Nazm Buri Aurat Ka Mukhtasir Tajzia
پروین شاکر کی نثری نظم "بُری عورت" کا مختصر تجزیہ
پروین شاکر اردو ادب کی ایک نمایاں اور حسَاس شاعرہ تھیں جنہوں نے جدید نسائی شعور کو نئی آواز دی۔ ان کی شاعری میں محبت، تنہائی، خودی اور عورت کی داخلی کیفیات نہایت لطیف انداز میں بیان ہوئی ہیں۔ وہ سادہ مگر پُراثر زبان استعمال کرتی ہیں جس میں جذبات کی سچائی نمایاں ہوتی ہے۔ ان کا پہلا مجموعہ "خوشبو"بے حد مقبول ہوا۔ انہوں نے عورت کے احساسات، سماجی پابندیوں اور مردانہ رویّوں کو نہایت جرات سے موضوع بنایا۔ ان کی شاعری میں نزاکت کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط نسائی شناخت بھی واضح نظر آتی ہے۔
پروین شاکر کی نظم "ایک بُری عورت" اردو شاعری میں نسائی شعور کی ایک نہایت طاقتور اور پیچیدہ مثال ہے۔ اس نظم میں شاعرہ نے عورت کے اُس تصور کو چیلنج کیا ہے جو صدیوں سے مردانہ سماج نے تشکیل دیا ہے۔ یہاں "بُری عورت" دراصل وہ عورت ہے جو سماجی اقدار کے بنائے ہوئے سانچوں میں فِٹ نہیں بیٹھتی۔ یہ نظم صرف ایک عورت کی کہانی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے منافقانہ رویّوں کا آئینہ ہے۔
نظم کے آغاز ہی میں شاعرہ عورت کی ظاہری شناخت کو چیلنج کرتی ہیں:
"وہ اگرچہ مطربہ ہے لیکن اُس کے دامِ صورت سے زیادہ
شہر اُس کے جسم کا اسیر ہے"
یہاں "مطربہ" کا لفظ ایک خاص سماجی لیبل ہے جو عورت کو کمتر ثابت کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مگر شاعرہ فوراً اس تاثر کو توڑ دیتی ہیں اور بتاتی ہے کہ مسئلہ عورت کا پیشہ نہیں بلکہ مردانہ نگاہ ہے جو اسے محض جسم تک محدود کر دیتی ہے۔ "شہر اُس کے جسم کا اسیر ہے" ایک نہایت معنی خیز مصرع ہے جو اس بات کی طرف........
