Har Bar Aurat He Qurbani Kyun De?
ہر بار عورت ہی قربانی کیوں دے؟
پاکستانی معاشرے میں عورت کو ہمیشہ سے قربانی، صبر، خاموشی اور برداشت کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔ بچپن سے لڑکی کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ گھر کی عزت اس کے صبر میں ہے۔ خاندان کی بقا اس کی خاموشی میں ہے۔ رشتوں کی مضبوطی اس کی قربانی میں پوشیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عورت کے وجود کو ایک مکمل انسان کی بجائے ایک ایسی ہستی بنا دیا گیا جو ہر وقت دوسروں کے لیے جیتی ہے۔ اسے اپنی خواہشات، خواب، تعلیم، محبت، کیریئر حتیٰ کہ اپنی رائے تک قربان کرنے کا درس دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی عورت قربانی کی مثال ہے یا اسے ایک سوچے سمجھے سماجی نظام کے تحت قربانی کی علامت بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ کبھی اپنے حق اور اختیار کی بات نہ کر سکے؟
حقیقت یہ ہے کہ عورت کی قربانی کا تصور ایک حد تک سماجی فراڈ بن چکا ہے۔ یہ ایسا فراڈ ہے جسے مذہب، روایت، خاندان اور اخلاقیات کے نام پر صدیوں سے دہرایا جا رہا ہے۔ عورت کو بتایا جاتا ہے کہ اچھی بیٹی وہ ہے جو خاموش رہے، اچھی بیوی وہ ہے جو ہر ظلم برداشت کرے اور اچھی ماں وہ ہے جو اپنی ذات کو مکمل طور پر مٹا دے۔ اس تصور میں عورت ایک انسان کے طور پر کہیں موجود نہیں ہوتی۔ اس کی اپنی شناخت، پسند، آزادی اور خواب غیر اہم قرار دے دیے جاتے ہیں۔ معاشرہ اس کی قربانی کو سراہتا ضرور ہے مگر اسے برابر کے حقوق دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا مرد بھی اسی طرح قربانی دیتا ہے؟ اگر معاشرے کا........
