menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Lookism: Botox Nahi, Tajurba Hai

18 0
26.10.2026

لُک ازم: بوٹاکس نہیں، تجربہ ہے

پاکستان میں خواتین پر تشدد کی خبریں اب پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں، زیادہ کثرت سے اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں۔ شاید پہلی بار عام لوگ بھی وہ کچھ دیکھ رہے ہیں جس کی نشاندہی ہم جیسے کارکن برسوں سے کرتے آئے تھے اور جس کے جواب میں اکثر ہمیں یہی سننے کو ملتا تھا کہ "آپ ملک کو بدنام کرنے کا ایجنڈا چلا رہے ہیں"۔

یہ بھی ایک بڑی تبدیلی ہے کہ آج "ریپ" جیسے لفظ کو سرگوشیوں کے بجائے کھلے عام استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہماری نسل نے وہ دور بھی دیکھا ہے جب اس لفظ کو زبان پر لانا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ یقیناً اس نئی کھلی گفتگو کے اپنے فائدے ہیں اور اپنے نقصانات بھی۔ غیر مصدقہ خبروں کا پھیلاؤ، متاثرہ خواتین کی شناخت کو بے دریغ عام کر دینا اور سوشل میڈیا پر سنسنی کو انصاف پر ترجیح دینا ایک الگ مسئلہ ہے، جس پر سنجیدگی سے بات ہونی چاہیے۔

یہ کالم عمومی طور پر خواتین پر تشدد کے معروف مظاہر کے بارے میں نہیں بلکہ ایک کم نظر آنے والے، ساختی اور خاموش تشدد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وہ تشدد جو عمر، جنس، ظاہری شکل اور طبقاتی حیثیت کی بنیاد پر خواتین کی پیشہ ورانہ اور سماجی موجودگی کو محدود کرتا ہے

یہ کالم ایک ایسی خاموش، معمول بنا دی گئی، مگر گمبھیر تشدد کی گہری شکل کے بارے میں ہے جس کا نہ کوئی نمایاں نام ہے، نہ کوئی باقاعدہ قومی اعداد و شمار، نہ میڈیا کی سرخیاں اور نہ ہی سنجیدہ عوامی بحث۔

یہ بڑھتی عمر کی خواتین کے خلاف ایک غیر مرئی تشدد کی بات ہے۔

میں جان بوجھ کر لفظ "تشدد" استعمال کر رہی ہوں کیونکہ جب کسی عورت کو اس کی عمر، جنس، ظاہری شکل، ازدواجی حیثیت یا طبقاتی پس منظر کی بنیاد پر مسلسل مواقع، روزگار، عزت اور فیصلہ سازی کے دائرے سے باہر دھکیلا جائے تو اسے محض "بدقسمتی" یا "مارکیٹ کی ضرورت" کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک ساختی اور سماجی تشدد ہے۔

پاکستان میں خواتین کے روزگار پر گفتگو عموماً لڑکیوں کی تعلیم، ملازمت تک رسائی یا دیہی خواتین کی معاشی محرومی تک محدود رہتی ہے۔ لیکن ایک سوال شاید ہی کبھی پوچھا جاتا ہے: وہ عورتیں کہاں جاتی ہیں جو چالیس، پینتالیس یا پچپن سال کی ہو جاتی ہیں؟ وہ جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، دہائیوں کا تجربہ رکھتی ہیں، ادارے چلا چکی ہیں، دوسروں کی تربیت کر چکی ہیں، لیکن اچانک پیشہ ورانہ منظرنامے سے غائب ہو جاتی ہیں؟

جواب شاید جتنا سادہ ہے، اتنا ہی تلخ بھی۔ انہیں دیکھا ہی نہیں........

© Daily Urdu (Blogs)