menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dr. Shaukat Mahmood: Aik Ehad Saz Ustad

25 0
11.07.2026

ڈاکٹر شوکت محمود: ایک عہد ساز استاد

آپ نہیں گئے، آپ جا ہی نہیں سکتے۔ ٹھیک ہے، آپ نے جانا تھا اور آپ چلے گئے، مگر یہ عمارت، درودیوار، یہ دفتر اور وہ کرسی جو آپ کی موجودگی سے آباد تھے، ہاں آپ کی یاد سے شاد ہیں۔ ان کمروں میں علم و تحقیق کی وہ بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے جہاں آپ علم کی لو روشن کرتے تھے۔ لائبریری کی الماریوں میں سجے ہوئے تحقیقی مقالات اور بے شمار علمی کام آپ کے نام، آپ کی رہنمائی اور آپ کی علمی بصیرت کی گواہی دیتے ہیں۔ ہر ورق پر آپ کی محنت کا عکس اور ہر حوالہ آپ کے فکر و دانش کا نشان ہے۔

ڈاکٹر شوکت محمود 1940ء میں پشاور میں پیدا ہوئے۔ وہ چھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ اُن کے والد محکمہ انکم ٹیکس میں ملازم تھے 1947ء میں وہ دہلی میں تعینات تھے، جبکہ خاندان گجرات میں مقیم تھا۔ تقسیمِ ہند کے ہنگامہ خیز دنوں میں کئی ماہ تک اُن کا اپنے والد سے کوئی رابطہ نہ رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اُن کے والد کو اُس ٹرین کے ذریعے آنا تھا جس کے مسافروں پر وحشیانہ حملے ہوئے اور بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیا گیا اورپورا خاندان والد کی خیریت کے لیے بے چین تھا۔ اگست سے اکتوبر 1947ء تک کا عرصہ انتہائی کرب اور بے یقینی میں گزرا۔ بالآخر ان کے والد بے شمار مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے بحفاظت گھر پہنچ گئے۔

آپ نے پاکستان بنتے دیکھا، ہجرتوں کا درد، فسادات کی آگ، بچھڑتے خاندان، ویران ہوتی بستیاں اور لوگوں کی آنکھوں میں اترتے آنسو دیکھے۔ آپ اس تاریخ کے عینی شاہد تھے جسے آج کی نسل صرف کتابوں میں پڑھتی ہے۔ آپ جانتے تھے کہ یہ ملک کن خوابوں، قربانیوں اور آزمائشوں سے گزر کر وجود میں آیا۔ آپ نے ایمان، دیانت داری اور خلوص کی وہ کونپلیں بھی دیکھی تھیں جو اس سرزمین میں........

© Daily Urdu (Blogs)