Gas Chori: Jurm Kisi Ka, Saza Kisi Ko
پاکستان میں توانائی کا بحران اب محض ایک معاشی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک سنگین سماجی ناانصافی بن چکا ہے جہاں گیس چوری کی صورت میں جرم کوئی اور کرتا ہے اور اس کی سزا کسی اور کو ملتی ہے۔ جب ایک بااثر صنعت کار یا کمرشل صارف سسٹم میں نقب لگا کر کروڑوں روپے کی گیس چوری کرتا ہے تو اس کا خسارہ حکومت کی جیب سے نہیں بلکہ اس دیانتدار شہری کی جیب سے نکلتا ہے جو یخ بستہ سردی میں گیس نہ ہونے کے باوجود بل ادا کرنے پر مجبور ہے۔
ظلم یہ ہے کہ ریاست چور پکڑنے کے بجائے اس کے کئے کا بوجھ ان صارفین پر ڈال دیتی ہے جو قانون کی پاسداری کرتے ہیں۔ مہنگائی کی چکی میں پستا عام آدمی اب بنیادی ضرورتوں سے بھی محروم ہوتا جا رہا ہے۔ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا توانائی کا شعبہ ہمارے ہاں بدانتظامی، چوری اور کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے۔
حالیہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو مالی سالوں میں ملک بھر میں 3 ارب 33........
