Ibn e Khaldoon: Tareekh, Tehzeeb Aur Insani Urooj o Zawal Ka Nabbaz
ابنِ خلدون: تاریخ، تہذیب اور انسانی عروج و زوال کا نباض
تاریخ بہت سے مؤرخ پیدا کرتی ہے، لیکن کبھی کبھار ایک ایسا مؤرخ پیدا ہو جاتا ہے جو تاریخ کو خود ایک علم بنا دیتا ہے۔ جو صرف واقعات نہیں گنتا، بلکہ ان کے پیچھے چلنے والے خفیہ دھاروں کو دیکھتا ہے۔ جو سلاطین کے قصے نہیں لکھتا، بلکہ اقوام کے عروج و زوال کو ایک سائنسی ترتیب دیتا ہے۔ جس کی تحریر صرف ماضی کو سمجھنے کا ذریعہ نہیں بنتی، بلکہ حال کے رویوں کو پرکھنے اور مستقبل کی سمت دیکھنے کا زاویہ بن جاتی ہے اور ایسا ہی ایک دماغ تھا، عبد الرحمٰن بن محمد بن خلدون، جسے ہم ابنِ خلدون کے نام سے جانتے ہیں۔
تیرہویں صدی کا اختتام اور چودہویں صدی کا آغاز تھا۔ اندلس میں مسلمان اقتدار اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا، مشرق میں تاتاریوں کا سیلاب آ چکا تھا، بغداد کی لائبریریاں جل چکی تھیں، دمشق اجڑ رہا تھا اور قاہرہ سازشوں کی آماجگاہ بن چکا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اسلامی دنیا اپنی ذہنی بالیدگی کے بعد ایک اجتماعی خالی پن میں گر چکی تھی۔ سیاست دغا سے، مذہب فرقہ واریت سے اور علم محض تقلید سے لبریز تھا۔ ایسے میں تیونس کی مٹی سے ایک ایسا نوجوان اُبھرا جس نے علمِ تاریخ کو نئی بنیادوں پر کھڑا کر دیا۔
ابنِ خلدون کا بچپن عربی، فقہ، منطق اور ادب میں تربیت پاتے گزرا۔ اس کے استاد بلند پایہ علما تھے، مگر اس کا ذہن تقلید سے بیزار تھا۔ وہ روایتی تشریحات سے آگے دیکھنا چاہتا تھا۔ اُس نے سیاست کے میدان میں بھی قدم رکھا، سفارتکاری میں بھی مہارت دکھائی، قید........
