Hostel Mein Qayam Karna (1)
ویسے تو پورا لینن ہوسٹل نمبر 3 ایک تھیٹر تھا، ایک چھت تلے روز نئی فلم ریلیز ہوتی تھی، ایسے شاندار دماغ جو ہر روز نیا سکرپٹ تخلیق کرتے اور فلم بھی کھڑکی توڑ رش پکڑتی، فقط میوزک کی کمی رہتی تھی، اُس سال یونیورسٹی کا سب سے خوب صورت غیر ملکی لڑکا یا بچہ، میں بذات خود تھا، ہوسٹل کا ماحول بڑا مست تھا، وہاں موجود سٹوڈنٹس کی حرکات دیکھ کر مرحوم پہلوان کہتا تھا "اللہ کی قسم ان سے کبھی علاج نہ کرواؤں گا"۔ سب کا مشترکہ و متفقہ فیصلہ تھا کہ انہیں ڈاکٹر کی ڈگری مل جائے گی لیکن یہ کبھی انسان نہیں بن سکتے اور جب کبھی ملاقات ہوتی ہے تب بھی یہی رائے برقرار ہے۔
معظم ڈھلوں، عمران بشیر فرام ڈسکہ، فیصل شہزاد فرام گوجرانوالہ، عتیق مشتاق فرام ساہیوال اور مبین فرام لاہور کا ایک بہت اچھا گروپ تھا، سب ٹیلنٹ سے بھرپور اور زندہ دل، اچھا پڑھنے لکھنے والے، ہوسٹل میں معظم ڈھلوں خوب ماحول بناتا تھا، اس کے پاس سٹوڈیو ساؤنڈ سسٹم یعنی بہت بڑے سپیکروں والا پورا سیٹ تھا، ہر ویک اینڈ پر کوریڈور میں سپیکر رکھ کر میوزک پارٹی ہوتی تھی، سب لوگ جمع ہو کر الٹے سیدھے ہاتھ پاؤں چلاتے، معظم بذات خود بڑا کمال کا ڈانسر تھا، عتیق مشتاق بانسری نواز تھا یعنی بانسری کی دھن پر گانے سناتا، یہ پورا گروپ ثقافتی پروگراموں میں پیش پیش ہوتا تھا۔
جب نئے لوگ ملتے ہیں تب مزاج آشنائی کیلئے کچھ وقت درکار ہوتا ہے، جتنی جلدی ایک دوسرے کا مزاج سمجھ گئے اتنی جلدی اچھے دوست بن گئے ورنہ نیا کمرہ تلاش کرو، مزاج ناآشنائی کے باعث ایک دوسرے سے بات بے بات جھگڑے، مزاج برہم، لڑائی و علیحدگی اور پھر ایک دوسرے کو بدنام کرنا عام بات تھی، یونیورسٹی کنٹریکٹر میر حسین کشمیری اور اکبر جلال نے طلباء کو بیک وقت فیس ادا کرنے کی بجائے قسطوں میں بھی ادائی کی سہولت دے رکھی تھی جس کا بعض طلباء غلط فائدہ اٹھاتے تھے، ہوسٹل سے باہر اپارٹمنٹ میں قیام کی اجازت تھرڈ ایئر سے ملتی........
