منیر احمد بلوچ
چودہ اگست میرا جنم دن تھا جو تم سب نے اس طرح منایا کہ کسی نے میرے سر کے بال کھینچے تو کسی نے میرے باز و ہاتھ پاؤں اور جسم کو کاٹنے کی کوشش کرتے ہوئے میرا وجو دلہولہان کر دیا ۔ کسی بھی ماں کا اس قسم کا جنم دن شائد ہی منایا گیا ہو جیسا میرے بچوں نے منا کر دنیا بھر کو دکھایا ہے اس کے باوجود میں چاہتی ہوں کہ کچھ باتیں کروں ایک طرح سے آپ سب اسے میرا شکوہ سمجھنا بس آج دل بوجھ ہلکا کرنا چاہتی ہوں ان سے بھی جنہیں میں اچھی نہیں لگتی اور ان سے بھی جنہیں میر اوجود اب بوجھ لگنے لگا ہے۔ تمہاری ماں جسے شاعر اور ادیب مادر وطن کہتے ہیں اس ماں کے وجود میں جھانک کر اپنی حقیقت جاننے کی کوشش کرو جس کے بغیر تم میری محبت میرے وجود کی سلامتی اور اس کے تحفظ کا حق ادا نہیں کر سکتے تمہیں بے فکر دیکھ کر خوشی بھی ہوتی ہے اور فکر سے خالی دیکھ کر رنج بھی ۔
ایسا لگ رہا ہے کہ اب تم مجھ سے صرف سرسری اور غیر شعوری سارشتہ رکھنے لگے ہو میں محسوس کر رہی ہوں کہ تمہاری بے حسی ، بے شعوری اور غفلت و کوتا ہی جو دن بدن بڑھتی جارہی ہے اس سے میرے بچے کھچے وجود کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ۔ حالات و واقعات کی انہی سنگینیوں نے مجھے تم سے براہ راست مخاطب ہونے اور یہ پوچھنے پر مجبور کیا ہے کہ تم نے کبھی غور کیا ہے کہ مجھے مملکت خداداد پاکستان کیوں کہا جاتا ہے تم نے کبھی سوچا ہے کہ ماں سے فقط مفادات کا رشتہ رکھنے والی اولاد کبھی ماں کی محبت اور اس کی طویل مشقت اس کی قربانیوں اور اس کی امیدوں ، آرزوؤں اور تمناؤں کا حق ادا نہیں کر سکتی اور مجھے سب سے بڑا دکھ یہی ہے کہ تم نے مجھ سے اپنا رشتہ صرف مفاد اور اقتدار تک محدود رکھا ہے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اپنے خدا کو گواہ بنا کر بتاؤ
تم اپنے اور اپنے بیوی بچوں کی خوشحالی اور خوشی کیلئے پر تعیش سامان زیست کی فراہمی کے بارے میں جتنا سوچتے ہو کیا کبھی اس کا عشر عشیر بھی میری صحت و سلامتی کے بارے میں سوچا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں ! تمہارے اسی منفی رویے کی وجہ سے خود تمہاری عافیت و سلامتی کے بارے میں ہر وقت دھڑ کا سالگارہتا ہے تمہاری مجھ سے حد سے بڑھتی ہوئی بے اعتنائی اور لا پروائی سے اگر خدانخواستہ مجھے کچھ ہو گیا تو تمہارا اور تمہاری موجودہ اور آنے والی نسلوں کا کیا بنے گا ؟ ۔
میں دیکھ رہی ہوں کہ تم سب فرقہ واریت میں ڈوب چکے ہو تمہیں مال وزر کے پجاریوں نے ہوش و خرد سے بے گانہ کر کے ایک دوسرے کا دشمن بنا دیا ہے تم اپنے سے اختلاف رکھنے والے کو سنگسار کرنا افضل عبادت سمجھنے لگے ہو اللہ کی قرآن پاک میں دی گئی تعلیمات بھول کر تم مفادات میں جکڑے ہوئے بعض مذہبی پیشوائوں کی باتوں پر زیادہ یقین کرنے لگے ہو مجھے ڈر ہے کہ دشمن تمہیں آپس میں لڑا کر کچل دے گا۔
میں تمہارے چہروں کو دیکھ رہی ہوں تمہیں میری یہ باتیں اچھی نہیں لگ رہیں شائد تمہیں جانے کی جلدی ہے کسی فیشن شو میں یا کسی ٹی وی ٹاک میں لیکن کچھ دیر اور ٹھہر جاؤ اور مجھے غور سے سنو میری حقیقت میری روح کو سمجھنے کی کوشش کرو یا درکھو میری رگوں کو خاموش اور عیش و عشرت میںمدہوش تماشائی کی طرح کٹتے دیکھتے رہو گے تو پھر کہاں جاؤ گے کس کی شاخوں پر اپنا آشیانہ قائم رکھ سکو گے؟
تم بھول گئے ہو کہ پاکستان تمہارے لیے اللّٰہ کا ایسا........
