ڈاکٹر نیاز احمد اختر
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ڈیٹا سائنس اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز نے تعلیم، معیشت اور روزگار کی نوعیت بدل دی ہے۔ ایسے ماحول میں کامیابی صرف ڈگری کا نام نہیں رہی بلکہ علم، مہارت، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ رکھنا ضروری ہو گیا ہے۔
اس بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اسکے نوجوان ہیں۔ مجھے جامعات، اساتذہ اور طلبہ کیساتھ طویل عرصے سے کام کرنے کا موقع ملا ہے، اور اس تجربے کی بنیاد پر میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے نوجوانوں میں سیکھنے، حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے اور قومی و عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
آج ہمارے طلبہ دنیا کی ممتاز جامعات، تحقیقی اداروں اور مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں اپنی صلاحیتیں ثابت کر رہے ہیں۔ پاکستان کے اندر بھی معلوماتی ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم، کاروبار، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل معیشت میں نوجوان نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ہائر ایجوکیشن کمیشن کی موجودہ ترجیحات بھی اسی سوچ کے گرد ترتیب دی جا رہی ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ طالب علم صرف ڈگری حاصل نہ کرے بلکہ عملی زندگی اور مستقبل کی ضروریات کے لیے بھی تیار ہو۔ اسی لیے نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے، جبکہ عملی تربیت، انٹرن شپ، صنعت سے رابطے اور مطلوبہ مہارتوں کو تعلیمی پروگراموں کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ طالب علم جب کسی پروگرام میں داخل ہو تو اسے معلوم ہو کہ چار سال بعد وہ کن علمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ یونیورسٹی سے فارغ ہوگا۔ مصنوعی ذہانت اور جدید معلوماتی ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں سے جوڑا جا رہا ہے تاکہ نوجوان اپنے بنیادی مضمون کے ساتھ نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے بھی واقف ہوں۔استاد کا کردار بھی بنیادی ہے۔ مستقبل کے لیے تیار طلبہ کے لیے ایسے اساتذہ درکار ہیں جو اپنے شعبوں میں آنے والی نئی تبدیلیوں سے باخبر ہوں۔ اسی لیے اساتذہ کی تربیت اور جامعات کی استعداد میں اضافہ بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔
نوجوانوں کے لیے قومی اور عالمی مواقع پیدا کرنا بھی اسی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن مختلف وظائف، بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم، عالمی شراکت داریوں اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے ایسے مواقع بڑھا رہا ہے۔ GRE، TOEFL اور بین الاقوامی جامعات میں داخلے کی تیاری کے لیے سہولتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ کوئی باصلاحیت نوجوان تیاری کی کمی کی وجہ سے کسی اچھے موقع سے محروم نہ رہے۔یہ مواقع صرف بیرونِ ملک ڈگری کے لیے نہیں بلکہ جدید تحقیق، نئی ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ روابط اور وسیع عالمی نقطۂ نظر حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔
مجھے بین الاقوامی جامعات اور مختلف اداروں کے ساتھ رابطے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ پاکستانی طلبہ اور پیشہ ور افراد کے بارے میں جس اعتماد اور مثبت تاثر کا اظہار........
