عطا ء الحق قاسمی
محلہ سرطان پورہ کی اصلاحی کمیٹی کا اجلاس گزشتہ ہفتے کمیٹی کے صدر خان عبدالجبار خان کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں اصلاحی کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی ۔اجلاس میں علاقے کے حکیم ، حکیم عبد التواب کے خلاف شکایات کا جائزہ لیا گیا، نور دین قصائی نے شکایت کی تھی کہ اس نے حکیم صاحب سے تین دفعہ پیٹ درد کی دوا لی لیکن اسے تینوں دفعہ آرام نہ آیا۔مولانا سر کار علی نے شکایت درج کرائی تھی کہ حکیم صاحب کئی مریضوں کو چیلوں کا گوشت کھانے کا مشورہ دیتے ہیں جو کہ خلاف شریعت ہے ۔مس روزی کو شکایت تھی کہ حکیم صاحب نے جو بلی پال رکھی ہے وہ اسے کھانے کو کچھ نہیں دیتے جسکی وجہ سے وہ دن بدن لاغر ہوتی جا رہی ہے چنانچہ ان کی این جی او یہ معاملہ یورپ میں جانوروں کے حقوق کی تنظیم کے سامنے بھی پیش کرے گی۔
محلے کے دس حکیموں نے اپنی ایک مشترکہ درخواست میں کہا تھا کہ حکیم عبدالتواب کی وجہ سے کوئی مریض ان کے پاس نہیں پھٹکتا اور یوں انکے گھروں میں فاقوں کی نوبت آ گئی ہے چنانچہ کچھ عرصے کیلئےحکیم عبد التواب کی پریکٹس پر پابندی عائد کر دی جائے ۔محلہ سرطان پورہ کے سیاسی کارکن معراج دین طوطے کا کہنا تھا کہ حکیم عبد التواب کے ٹھاٹھ باٹھ سے اندازہ ہوتا ہے کہ دراصل ان کا ہیروئن کا کاروبار ہے چنانچہ ان کے خلاف تحقیقات کی جائے۔عبد الشکور ٹام ( جسے امریکہ سے بے حد محبت ہے ) کو شکایت تھی کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں بیماروں کے علاج دیسی نسخوں سے کرنا اہل مغرب کی قابلیت پر شک کرنے کے مترادف ہے، لہٰذا علاقے سے حکیم عبد التواب کا مطب اٹھا دینا چاہئے۔روز نامہ’’ارشاد‘‘کے نامہ نگار طوفان خان طوفان نے اپنے اخبار میں خبر دی کہ حکیم عبد التواب نے انہیں ایک گھنٹہ انتظار کے بعد اندر بلایا ،اسے عام مریضوں کی طرح ٹریٹ کیا گیا اور یوں صحافت کے مقدس پیشے کی توہین کی گئی ہے۔
اصلاحی کمیٹی کے ارکان نے ان تمام شکایات کا تفصیل سے جائزہ لیا اور پھر انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے حکیم عبد التواب کو طلب کیا تاکہ وہ اپنی صفائی میں اگر کچھ کہنا چاہتے ہیں تو کہہ سکیں ۔حکیم صاحب نے نور دین قصائی کے اعتراض کے جواب میں کہا کہ انہوں نے نور دین قصائی کو پیٹ درد کی دوا پانی کے ساتھ کھانے کیلئے کہا تھا مگر اس نے تینوں دفعہ یہ دوا آدھ کلو بھنے ہوئے گوشت کے ساتھ کھائی چنانچہ اگر اسے افاقہ نہیں ہوا تو اس میں انکا کوئی قصور نہیں، حکیم صاحب نے مولانا سرکار علی کے الزام کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ مولانا نے اپنے الزام کے ثبوت میں ایک گواہ بھی پیش نہیں کیا اور یوں جھوٹا الزام لگانے پر انکے مقتدیوں کو ان سے جواب طلب کرنا چاہئے ۔مس روزی کے الزام کے حوالے سے حکیم صاحب کا کہنا تھا کہ انکی پالتو بلی کی صحت مس روزی کی اپنی صحت سے کہیں بہتر ہے بے شک دونوں کا وزن کرا کے دیکھ لیا جائے ۔ محلے کے دس حکیموں کے گھروں میں فاقے کی وجہ حکیم عبد التواب نے یہ بتائی کہ ان حکیموں نے کبھی........
