عرفان اطہر قاضی
پاکستان میں آج سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ اقتدار کس کے پاس ہے، سوال یہ ہے کہ عوام کی جھونپڑی سے اقتدار کے محل تک کوئی آواز پہنچ بھی پا رہی ہے یا نہیں۔ ایک طرف عام آدمی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا جا رہا ہے، دوسری طرف سیاسی جماعتیں سڑکوں پر اپنی اپنی سیاست کا مقدمہ لیکر کھڑی ہیں۔ کسی کے پاس رہائی کا مطالبہ ہے، کسی کے پاس پٹرول لیوی پر احتجاج کا ایجنڈا، کوئی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کر رہا ہے، مگر اس ہجوم میں وہ آدمی کہیں گم ہوگیاہے جو صبح گھر سے نکلتے ہوئے یہ سوچتا ہے کہ شام کو بچوں کیلئے کیا لیکر جائیگا۔ پٹرول کی قیمتیں جب بھی بڑھتی ہیں تو اس کا اثر صرف گاڑی کی ٹینکی تک محدود نہیں رہتا۔ اس کیساتھ سبزی، دودھ، آٹا، اسکول وین، بس کا کرایہ، بجلی کا بل اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ جس شخص کی آمدن وہیں کھڑی ہو اور اخراجات مسلسل بڑھتے جائیں، اس کیلئے مہنگائی محض ایک معاشی اصطلاح نہیں روزانہ کا امتحان ہے۔ گھر کا بجٹ پہلے ہی سکڑ چکا ہے۔ بہت سے خاندانوں کے پاس زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی بھی گنجائش نہیں بچتی۔ایسے حالات میں حکومت سے یہ توقع فطری ہے کہ وہ سب سے پہلے عوام کے دکھ کو محسوس کرے۔ ریاست کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس کے سرکاری دفاتر آباد ہیں، گاڑیاں رواں اور پروٹوکول برقرار ہے، اصل امتحان یہ ہے کہ عام آدمی کے گھر کا چولہا جل رہا ہے، بچہ ا سکول جا رہا ہے اور بجلی کا بل ادا کرنے کے بعد گھر میں راشن خریدنے کے پیسے بھی بچ رہے ہیں۔ اگر یہ بنیادی توازن بگڑ جائے تو بڑے بڑے دعوے عوام کیلئے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ادھر پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد آنے کی کال دی ہے۔ مطالبہ عمران خان کی رہائی اور جیل میں سہولتوں سے متعلق ہے۔دوسری طرف جماعت اسلامی احتجاجی سیاست ،دھرنوں ، مظاہروں سے گزر کر لانگ مارچ تک آگئی ہے۔ سیاسی جماعتوں کا احتجاج جمہوری حق ہے، کیا ہماری احتجاجی سیاست نے کبھی اس بنیادی مسئلے کو مرکزی موضوع بنایا کہ عام آدمی کی زندگی آسان کیسے ہوگی؟یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلسل احتجاج، سڑکوں کی بندش اور سیاسی کشیدگی کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے۔ جب شہر بند ہوتے ہیں تو سب سے زیادہ نقصان بڑے لوگوں کا نہیںچھوٹے دکان دار، مزدور، ٹرانسپورٹر، دیہاڑی دار اور روزانہ کی آمدن پر گزارا کرنیوالے شہری کا ہوتا ہے۔احتجاج کا حق اپنی جگہ، لیکن احتجاج کے معاشی اثرات سے آنکھیں بند کرنا بھی دانش مندی نہیں۔ملکی معیشت پہلے ہی وینٹی لیٹر پر ہے۔ مسلسل مالی مشکلات نے حکومت کیلئے گنجائش محدود کر دی ہے۔ جب وسائل محدود ہیں تو کفایت شعاری سب سے پہلے کہاں ہونی چاہئے؟ کیا قربانی ہمیشہ عوام ہی دینگے؟ کیا بجلی کا بل بڑھانا، پٹرول مہنگا کرنا اور ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا ہی معاشی اصلاحات کا واحد راستہ ہے؟یہیں سے ”بادشاہی اور گدائی“ کا اصل تضاد سامنے آتا ہے۔ ایک طرف ملک عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے قرض، امداد اور سہولتوں کی امید لگائے بیٹھا ہے۔ دوسری........
