سہیل وڑائچ
کرسی نشین سیاستدان ہوں یا افسر، وُہ مصروف بہت ہوتے ہیں اتنے مصروف کہ نہ انکے پاس فون کا جواب دینے کا وقت ہوتا ہے، نہ وہ عامیوں سے ملتے ہیں اور نہ ہی عوام کے بارے میں جو فیصلے وُہ کر رہے ہوتے ہیں انکو بتانے کی زحمت کرتے ہیں۔ تضادستان میں ’’مصروفیت‘‘ دراصل ایک بیماری کا نام ہے جو ہر کرسی نشین کو لاحق ہو جاتی ہے اور یہ بیماری اس وقت تک اُسے نہیں چھوڑتی جب تک کرسی اُسے چھوڑ نہیں دیتی- Covid کی طرح مصروفیت کی بیماری اکیلی نہیں آتی اسکے ساتھ ہی اکڑ،بے اعتنائی اور ہلکی سی تنقید یا اختلاف پر ناراضی جیسی دوسری بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہیں، جیسے نزلہ ہو تو زکام اور کھانسی میں مبتلا ہونا عام سی بات ہے۔ کرسی نشین کی مصروفیت گزشتہ 40 سال قریب سے دیکھنے کا مشاہدہ ہوا ہے۔ انگریزی زبان کا محاورہ ہے کہ مصروف نظر آؤ اور کچھ بھی نہ کرو(Look busy, do nothing اب صحافی کا مسئلہ ہوتا ہے کہ اسے کرسی نشین کی خبر رکھنی پڑتی ہے اور اگر خبر بند ہو جائے تو خبر لینی بھی پڑتی ہے۔ اسلئے اکثر کرسی نشین صحافیوں سے پرہیز کرتے ہیں مگر ظاہر ہے کہ دریا ایک ہے، اسی میں صحافتی مچھلیوں اور کرسی نشین مگرمچھوں کو رہنا پڑتا ہے اسلئے گاہے گاہے آمنا سامنا بھی ہوتا رہتا ہے۔
اس وقت ملک کے سب سے بڑے کرسی نشین وزیر اعظم صاحب ہیں۔ اس قلم گھسیٹیے کی ان سے دہائیوں سے واقفیت اور تعلق خاطر ہے انکا دورِ اقتدار بھی دیکھا ہے اور دیکھ رہے ہیں اور انکے دورِ ابتلا اور اپوزیشن کو بھی دیکھتے رہے ہیں۔ وزیراعظم 17 برسوں سے اقتدار میں ہیں اور ابھی انہوں نے بطور وزیر اعظم مسلسل پانچواں بجٹ پیش کیا ہے۔ مجھے انکی وفاقی حکومت کے فیصلے نہ کرنے، سیاسی بیانیہ نہ بنانے اور معیشت کو تیز نہ کرپانے پر شدید اختلاف ہے اور میں بار بار اس کا اظہار بھی کرتا رہتا ہوں مگر وزیر اعظم شہباز شریف میرے اختلاف اور تنقید کے باوجود جب بھی ملے کھلے بازوؤں اور مسکراتے چہرے سے ملے ورنہ ہر کرسی نشین تنقید یا اختلاف پہ ماتھے پر بل ڈال لیتا ہے، ملنا چھوڑ دیتا ہے، ناراض ہو جاتا ہے اور اگر اختیار ہو تو آپ کو تنگ بھی کیا جاتا ہے مگر خدا لگتی بات یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے دور میں براہ راست ان پر ہونیوالی تنقید کو وہ خندہ پیشانی سے برداشت کرتے آئے ہیں۔ میں نے جون کے آخر میں کالم لکھ کر کہا تھا کہ انکا دور ِعروج ختم ہو چکا اب جولائی سے زوال شروع ہوگا اور حقیقت میں ایسا ہی ہو رہا ہے، وہ مسائل جو پٹاری میں بند تھے وہ ایک ایک کرکے کھل رہے ہیں، وزیر اعظم جتنا بھی جھک جائیں ،جتنے بھی مٹ جائیں یا جتنے بھی بدل جائیں۔ ان کو گھیرنے والے مسائل بہت بڑے ہیں۔ دیکھتے ہیںوہ ان سے کیسے برّی الذمہ ہوسکیں گے۔
وزیر اعظم وہ واحد کرسی نشین ہیں جو بقول شخصے 18 گھنٹے ’’شبانہ روز‘‘ کام کے باوجود مصروف نہیں ہیں ۔وہ ملاقاتیوں سے ملتے ہیں، اتحادیوں سے رابطہ رکھتے ہیں، بیرون ملک دورے کرتے ہیں، اپنے دونوں گھروں میں بھی باقاعدگی سے جاتے اور وقت دیتے ہیں، بڑے بھائی کے گھر جاتی امرا بھی ہفتہ وار حاضری دیتے ہیں اور اونچے ایوانوں کو بھی خوش رکھتے ہیں غرضیکہ کرسی نشینوں میں سے وہ واحد ہیں جن پر اقتدار اور طاقت کا نشہ نہیں چڑھا وگرنہ توہر کرسی نشین کوبرا سانپ کی طرح پھن پھیلائے پھنکار رہا ہے۔ مصروفیت میں کرسی نشین صرف خواص سے ملتے، اُن ہی سے بات کرتے اور انہیں ہی دستیاب ہوتے ہیں۔ کرسی نشینوں کی مصروفیت سے پنجابی لوک کہانی کا کردار جگّا یاد آگیا۔ جگّے کے بارے میں مشہور پنجابی محاورہ ہے’’جگّے نوں نِت مہماں‘‘۔یہ محاورہ کسی........
