menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

پروفیسر اعجاز احمد قریشی

19 0
18.09.2026

آج کل پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے، اور اس بحث کا سب سے زیادہ مرکز سندھ کو بنایا جا رہا ہے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز، سیاسی پروگراموں اور تجزیوں میں اس موضوع پر مسلسل بحث جاری ہے۔ ان مباحثوں میں سیاستدانوں کیساتھ ساتھ ملک کے معروف سیاسی، سماجی، معاشی اور انتظامی ماہرین بھی اپنی اپنی آرا پیش کر رہے ہیں۔ متعدد معروف ماہرین اور دانشوروں نے نئے صوبوں کے قیام کی تجویز پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ،ڈاکٹر عشرت حسین، سینیٹر رضا ربانی، ڈاکٹر قیصر بنگالی، مشاہد حسین سید،خرم حسین، ڈاکٹر ملیحہ لودھی، سہیل وڑائچ، حامد میر اور دیگر اہلِ فکر و دانش کی گفتگو سے بھی یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا محض صوبوں کی تعداد بڑھا دینا ملک کے انتظامی، معاشی اور سیاسی مسائل کا حل ہے؟ یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے کہ سندھ اسمبلی اور خیبرپختونخوا اسمبلی نئے صوبوں کے قیام کے خلاف قراردادیں منظور کر چکی ہیں۔ خاص طور پر سندھ میں اس معاملے پر عوامی ردِعمل انتہائی شدید رہا ہے۔ سندھ کے عوام بارہا یہ واضح کر چکے ہیں کہ صوبے کی وحدت اور اس کی تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی شناخت کو نظرانداز نہ کیا جائے۔

سندھ کے معاملے کو سمجھنے کیلئے اس کی تاریخ کو سامنے رکھنا بھی ضروری ہے۔ سندھ محض ایک انتظامی اکائی نہیں بلکہ ہزاروں سال پر محیط ایک تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی شناخت کا حامل خطہ ہے۔ موہن جو دڑو سے لے کر بھنبھور، ٹھٹھہ اور سندھ کی تہذیبی تاریخ اس خطے کی منفرد شناخت کی گواہی دیتی ہے۔ پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں بھی سندھ کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ 23مارچ 1940ء کو لاہور میں قراردادِ پاکستان منظور ہوئی، جبکہ سندھ اسمبلی نے 3مارچ 1943ء کو ایک تاریخی قرارداد منظور کرکے مسلمانوں کیلئے الگ وطن کے قیام کے مطالبے کی باقاعدہ حمایت کی۔ یہ اعزاز سندھ کو حاصل ہے کہ وہ برصغیر کی پہلی صوبائی اسمبلی تھی جس نے پاکستان کے قیام کے مطالبے کی حمایت میں قرارداد منظور کی۔ اس تاریخی پس منظر میں سندھ کی وحدت محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ یہ سندھ کے عوام کے تاریخی شعور، سیاسی جدوجہد اور اجتماعی شناخت سے بھی جڑ جاتی ہے۔

ون یونٹ کا تجربہ ہمیں کیا سکھاتا ہے؟

اگر ہم ماضی کی طرف دیکھیں تو پاکستان کی تاریخ ہمیں اس حوالے سے بہت کچھ سکھاتی ہے۔ ون یونٹ کے قیام کے وقت بھی یہ دلیل دی گئی تھی کہ ملک کو انتظامی طور پر ایک مضبوط وحدت میں تبدیل کرنے سے ترقی، استحکام اور وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہوگا۔ 1955ء میں ون یونٹ قائم کیا گیا، لیکن اس تجربے نے نہ تو وہ ترقی فراہم کی جس کے دعوے کیے گئے تھے اور نہ ہی صوبائی اور علاقائی احساسِ محرومی کو ختم کیا۔ اسکے برعکس، چھوٹے صوبوں اور مختلف علاقوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ انکی سیاسی، معاشی اور انتظامی شناخت اور حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ نتیجتاً سیاسی بے چینی میں اضافہ ہوا اور بالآخر 1970ء میں ون یونٹ کا خاتمہ کرنا پڑا۔ آج ایک بار پھر تقریباً اسی نوعیت کی دلیل سنائی دے رہی ہے کہ صوبوں کی تعداد بڑھانے سے انتظام بہتر ہوگا، ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے۔

پاکستان میں مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنائے بغیر صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے عام آدمی کی زندگی میں کتنی تبدیلی آئے گی؟ اگر ایک ضلع، تحصیل یا یونین کونسل میں بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت، پانی، روزگار اور........

© Daily Jang