Hukumrani Ya Ayyashi
گزشتہ روز سینئر اینکر پرسن ندیم ملک کے پروگرام میں رانا ثناء اللہ مہمان تھے اور ان سے جب پو چھا گیا کہ پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ملک میں غربت کی شرح تئیس فیصد سے بڑھ کر انتیس فیصد ہو چکی ہے تو انھوں نے روایتی ہنسی ہنستے ہوئے کہا کہ یہ سارے اعداد و شمار شمار محض پروپیگنڈا ہیں اور ملک میں اس وقت دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں۔
مزید لاہور کی بسنت کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ لوگوں کے پاس تو اتنا پیسہ ہے کہ وہ تین ہزار روپے والی ڈور اٹھارہ ہزار روپے میں خریدتے رہے ہیں اور پھر وزیر اعلیٰ پنجاب کے جہاز کے معاملہ میں اٹھائے گئے سوال کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں یہ تو لوگ بلاوجہ اس کو ایشو بنا رہے ہیں ورنہ دس پندرہ ارب روپے لٹا دینا تو حکمرانوں کی صوابدید ہے۔
اس کے بعد اینکر ندیم ملک نے سوال کیا کہ پنجاب حکومت ججوں اور بیوروکریسی کے لئے اٹھارہ اٹھارہ کروڑ روپے کی گاڑیاں خرید رہی ہے تو اس کے بارے میں کیا خیال ہے تو رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آپ کیا چاہتے ہیں کہ ججوں اور افسران کو گاڑیاں نہ دی جائیں بلکہ انہیں خچروں پر عدالت اور دفاتر میں بھیجا جائے جو کہ مناسب نہیں ہے پھر چئرمین سینیٹ کی خریدی گئی نو کروڑ روپے کی گاڑی پر بھی رانا ثناء اللہ نے ہنستے ہوئے کہا کہ یہ گاڑیاں ان لوگوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے دی گئی ہیں۔
اس پورے انٹرویو میں جو جھلک دکھائی دی وہ لگتا ہی نہیں تھا کہ کسی جمہوری ملک کے ایک سینئر وزیر کی گفتگو ہے بلکہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کسی شاہی دربار کا وزیر ہو جس کے لئے بادشاہ اور اس کی اطاعت کے سوا زندگی میں کوئی چیز اہم نہیں ہوتی ہے۔ اکثر درباری لوگوں کی ذمہ داری بادشاہ وقت کی ہر بری خصلت کی ناصرف تعریف کرنا ہوتا ہے بلکہ ایسے تمام اقدامات کو سپورٹ کرنا ہوتا ہے جو بادشاہ کی........
