menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tareekh e Aqwam e Aalam

20 0
13.04.2026

مرتضی احمد میکش نے تحقیقی کام، 1940میں ہی مکمل کر لیا تھا۔ مگر متعدد وجوہات کی بنا پر یہ شائع تقریباً دس برس کے بعد ہوا۔ چھپنے کے لیے مسودہ، حیدر آباد کی ریاست میں کسی پبلشر کے پاس پڑا رہا۔ بٹوارے کے بعد، بڑی مشکل سے ملا۔ یہ ایک حد درجہ سنجیدہ کتاب ہے۔

جس کی بنیاد، وہ تمام مراحل ہیں، جن میں انسانی نسل، وقت کا سفر طے کرکے ایک مرحلہ سے دوسرے ارتقائی مرحلہ میں داخل ہوتی رہی۔ اس بلند پایہ کام پرمرتضی صاحب نے جتنی محنت کی ہے، وہ نسخہ کے حجم ہی سے معلوم پڑ جاتی ہے۔ اسے پڑھنا، اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہمیں معلوم پڑ سکے، کہ ہم کس کس دور سے نکل کر آج کے وقت میں براجمان ہیں۔ طالب علم کی نظر میں یہ ایک قیمتی کاوش ہے۔ اس کی قدر ہونی چاہیے۔

چند اقتباسات، زیر تحریر کرتا ہوں۔

پتھر کا زمانہ قدیم: دس ہزار ق م سے پانچ ہزار سال ق م تک۔ یورپ کی سرزمین پے اسپ خوروں کی یلغار۔ اس دور کی ابتداء یورپ کی سرزمین پر اسپ خور(گھوڑے کھانے والے) شکاری انسانوں کی یلغار سے ہوتی ہے جو یوریشیا کے سرسبز میدانوں سے چل کر یورپ کی سرسبز زمین میں جنگلی گھوڑوں کا شکار کھیلتے ہوئے کوہستان پرنبیر تک جا پہنچے۔ معلوم ہوتا ہے کہ شمالی میدان اعظم میں جو سائیبیریا کے جنوبی حصوں ترکستانات اور وسطی روس پر مشتمل ہے، گھوڑوں کی نسلیں بہت افراط کے ساتھ پل رہی تھیں جو یورپ کے میدانوں کی طرف پھیلتی چلی گئیں۔ اسپ خور (گھوڑے کھانے والے) قوم کے لوگ انھی کے پیچھے یورپ میں پہنچے۔ ان کی یلغار کا سراغ ان کے اوزاروں سے ملتا ہے۔ جو افریقہ اور جنوب مغربی ایشیا کے ان باشندوں کے اوزاروں سے ساخت میں بہت مختلف ہیں۔

دھات کا زمانہ: دو ہزار ق۔ م سے ایک ہزار ق۔ م تک۔ کے دور میں جنوب مغربی ایشیا، مصر، جزائر ایجئنین، یورپ........

© Daily Urdu