menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khwab Liye Phirta Hoon

26 0
18.05.2026

وہ ایک علم دوست انسان ہے۔ ایک ڈیڑھ برس، پہلے، ان کے دولت خانہ جانے کا اتفاق ہوا۔ چائے کے بعد، انھوں نے گھر میں موجود اپنی لائبریری دکھائی۔ ایک کمرہ، جس میں ہر موضوع پر، اہم کتب موجود تھیں۔ انگریزی اور اردو زبانیں، دونوں میں۔ آج تک، کسی بھی شخص کی اتنی شاندار ذاتی لائبریری دیکھنے کونہیں ملی۔ جیسے ہی کسی اچھی کتاب کے چھپنے کا علم ہوتا ہے، فوراً، منگوا لیتا ہوں۔

خطے کی بھی کوئی قید نہیں، یورپ اور امریکا سے بھی، ان گنت نسخے موجود تھے۔ اتنی کتاب دوستی بہت کم دیکھنے کو ملی ہے۔ کتاب بینی نے انھیں مٹا ہوا انسان بنا دیا ہے۔ اس کے اندر "میں " کا عنصر مفقود ہو چکا ہے۔ یہ حد درجہ غیر معمولی بات ہے۔ طالب علم نے اکثر ایسے پڑھے لکھے انسان دیکھے ہیں۔ جن کی گفتگو میں علمی تکبر جھلک جھلک کر باہر آتا ہے۔ ایسے لوگ، ہر وقت یہ ثابت کرتے پھرتے ہیں، کہ ان کے علاوہ سب جاہل ہیں۔ دلاور چوہدری اس مصنوعی قافلہ سے متضاد شخص ہے۔

اپنے آپ میں گم، کتابوں کے درمیان کھویا ہوا اور کمال سنجیدگی سے لکھنے والا انسان۔ خود نمائی سے کوسوں دور اور اپنی دھن میں مگن۔ خوش نصیبی ہے کہ دلاور چوہدری سے بہت اچھی شناسائی ہے۔ جب بھی بات ہوتی ہے تو اس کے ادا کیے ہوئے لفظ، کانوں میں رس گھول دیتے ہیں۔ "خواب لیے پھرتا ہوں" ان کے کالموں کا مجموعہ ہے۔ جسے علامہ عبدالستار عاصم نے قلم فاونڈیشن کے زیر سایہ، چھاپنے کا عمدہ کام کیا ہے۔ بات "خواب لیے پھرتا ہوں" کی ہو رہی ہے۔ کوئی ستتر (77) کالموں کا انمول مجموعہ ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک کالم۔ بہر حال، اپنی کم علمی کو سامنے رکھتے ہوئے، اس کتاب میں سے چیدہ چیدہ مضامین کے ٹکڑے نکال کر سامنے رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

سارا شہر پتھر کا ہے: چاروں طرف ستم والوں کے تازیانوں سے نالاں حساس انسانوں کے "نظام بدلو، آوازے گونجتے ہیں لیکن "نام نہاد نظاموں کی بھول بھلیوں" میں پھنس کر کوئی بھی اس کا تعین نہیں کر پاتا کہ بدلا ہوا نظام کیسا ہو جو انسان کو سچ میں انسانیت کی طرف مائل کر دے۔ سوشلزم ہو، کمیونزم یا پھر........

© Daily Urdu