Dunya Badal Rahi Hai
علاقائی ورلڈ آرڈر (Regional World Order) جس تیزی سے تبدیل ہوا ہے، اس کا اندازہ، چار ماہ پہلے کرنا مکمل طور پر ناممکن تھا۔ ایسے ممالک جن کی کسی قسم کی ٹھوس خارجہ پالیسی موجود نہیں ہوتی اور جو معیشت کی سانس جاری رکھنے کے لیے قرض در قرض لیتے نظر آتے ہیں، وہ تو احاطہ تک نہیں کر سکتے تھے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ کس طرح کا طوفان برپا کر سکتی ہے؟ مگر جو قومیں حالات کی نزاکت و حساسیت کا ادراک رکھتی ہیں، ان کے بصیرت افروز قائدین، آنے والے طوفان کے آثار کو پڑھ چکے تھے۔ انھوں نے حالات بگڑنے سے پہلے ہی فیصلے کرنے شروع کر دیئے تھے۔
روس، چین، ہندوستان اور چند عرب ممالک نے ایسا ہی کیا۔ ان کی قیادت نے پینٹا گون اور سی آئی اے کے تیور معرکے سے پہلے دیکھ لیے تھے۔ ویسے معلومات کی بنیاد پر عرض کر رہا ہوں، کہ اس کشمکش سے تھوڑا سا قبل ہمارے ملک کے چند اکابرین کو معلوم ہو چکا تھا کہ یہ دھماکہ کب ہونے والا ہے۔ یو اے ای سے اپنا پیسہ اور کاروبار باہر نکالنے کا عندیہ بھی دے دیا گیا۔ یہ مشورہ بھی تھا کہ اب، سعودی عرب ایک محفوظ ٹھکانہ ہو سکتا ہے۔ مگر دولت اپنی محفوظ منزل کا خود تعین کرتی ہے۔ چنانچہ، ہماری اشرافیہ نے اپنے اثاثے دبئی سے چند مغربی ممالک میں منتقل کر دیے۔ جن میں اٹلی، اسپین اور پرتگال سرفہرست ہیں۔ دولت کا خاصا حصہ، تھائی لینڈ بھی گیا ہے۔
کہنے کا مطلب صاف ہے کہ ہمارے دولت مند، اپنے دھن کے لیے جو بھی محفوظ ٹھکانہ ڈھونڈ سکتے ہیں، اس کا بروقت انتظام کر لیا گیا تھا۔ ہمارے صرف وہ تارکین وطن پریشان ہیں، جو حساس اور نازک حالات کی سنگینی کو پڑھ نہ سکے۔ جن کے پاس معلومات بروقت موجود نہیں تھیں، وہ بری طرح متاثر ہوگئے۔ ویسے بھی کسی بھی آفت کا سامنا صرف متوسط یا غریب طبقہ کو ہی کرنا پڑتا ہے۔ امیر لوگ........
