Apna Gireban Chaak
ڈاکٹر جاوید اقبال کی خود نوشت کمال تحریر ہے۔ کتاب کی پیشانی پرا ن کی جاذب نظر تصویر موجود ہے۔ جس سے محترم جاوید اقبال کی دانائی، روشنی میں چھن کر سامنے آ رہی ہے۔ "اپنا گریباں چاک" صرف ایک نسخہ نہیں بلکہ ایک پورے عہد کا فسانہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا شرف کئی مرتبہ رہا۔ وہ سال میں ایک یا دو برس، ایڈمنسٹریو اسٹاف کالج، لیکچر دینے آتے تھے۔
ان کے الفاظ میں بھی دلیل اور تاریخ کی رم جھم بھرپور طور پر محسوس ہوتی تھی۔ علامہ اقبال کا فرزند ہونا تو خیرایک محترم بات ہے۔ مگر اس کے علاوہ، جاوید اقبال بذات خود علم کا ایک بھر پور خزانہ تھے۔ قانون، تاریخ، فلسفہ اور سماجی رویوں سے لبالب فیض یاب انسان۔ طالب علم کا منصب تو نہیں ہے کہ فرزند اقبال کی تحریر پر کچھ لکھ سکے۔ مگر چنداقتباسات پیش کرنے سے پہلے یہ ضرور عرض کروں گا کہ اس کتاب کو پڑھنے سے آپ کے ذہن کی متعدد گرہیں کھل جائیں گی۔ بہت سی فکری پگڈنڈیاں، سیدھے رستہ میں تبدیل ہو جائیں گی۔
دوسرا خط: میں نے تقریباً سات برس کی عمر میں اپنے والد کو پہلا خط لکھا تھا جب انھیں انگلستان سے گراموفون باجا لانے کی فرمائش کی تھی۔ اتنی مدت گزر جانے کے بعد انھیں دوسرا خط تحریر کر رہا ہوں۔ اس مرتبہ وہ اگلے جہان میں ہیں اور مجھے اپنے قومی تشخص اور "اسلامی"ریاست کے بارے میں ان سے رہبری لینا مقصود ہے۔
والد مکرم۔ السلام علیکم!
نئی نسل کے نمائندے کی حیثیت سے میں آپ کی اجازت کے ساتھ چند سوال کرنا چاہتا ہوں۔ ہم مسلمانوں کے قومی تشخص کے بارے میں آپ کی جو بحث مولانا حسین احمد مدنی کے ساتھ ہوئی تھی اس میں مولانا مدنی کا موقف تھا کہ قومیں وطن سے بنتی ہیں، لہٰذا برصغیر کے مسلمانوں کی قومیت تو ہندی ہے البتہ ملت کے اعتبار سے وہ مسلم ہیں۔ آپ نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ"قوم" اور "ملت" کے ایک ہی معانی ہیں۔ مسلم قوم وطن سے نہیں بلک اشتراک ایمان سے بنی ہے۔ اس اعتبار سے اسلام ہی مسلمانوں کی "قومیت " ہے اور "وطنیت" بھی۔
خودکلامی: میں نماز کے........
