menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dunya Ki Hoshiyari Aur Deen Ki Susti

26 0
06.06.2026

​دنیا کی ہوشیاری اور دین کی سستی

​انسانی رویوں اور معاشرتی نفسیات کا اگر گہرا مشاہدہ کیا جائے تو بعض تضادات اس قدر حیران کن اور افسوس ناک ہوتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ہم ایک ایسی عجیب بستی کے مسافر ہیں جہاں عارضی، فانی اور مٹ جانے والی چیزوں کے لیے ہماری ہوشیاری، چالاکی، دور اندیشی اور باریک بینی آسمان کو چھوتی ہے، لیکن جب معاملہ ابدی زندگی، روح کے سودے، ایمان اور دین کا آتا ہے تو ہم سُستی، غفلت اور اندھی تقلید کی گہری چادر تان کر سو جاتے ہیں۔ یہ تضاد صرف ہماری انفرادی زندگی تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ ہمارے مجموعی فکری زوال اور معاشرتی بربادی کا ایک بہت بڑا المیہ بن چکا ہے۔ ہم دنیا کے بازار میں تو سقراط اور افلاطون بن جاتے ہیں، مگر دین کی دہلیز پر آتے ہی اپنی عقل کو تالا لگا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔

​روزمرہ زندگی کی ایک عام اور ادنیٰ سی مثال لیجیے۔ جب ہم بازار میں ایک چھوٹی سے چھوٹی اور حقیر چیز، مثلاً چند روپے کلو ملنے والی سبزی، آلو، یا کپڑے کا ایک معمولی ٹکڑا خریدنے جاتے ہیں، تو ہمارا رویہ دیکھنے لائق ہوتا ہے۔ ہم ہر طریقے سے اس چیز کو پرکھتے ہیں، الٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں کہ کہیں سے کوئی نقص نہ ہو، کوئی کمی نہ ہو۔ کپڑے کا ریشہ ریشہ باریک بینی سے چیک کرتے ہیں کہ کہیں سے لٹھا کمزور تو نہیں۔ دکاندار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بحث کرتے ہیں، ناپ تول کا پورا حساب رکھتے ہیں اور ایک ایک پائی کا ریٹ لگا کر سودا طے کرتے ہیں۔ اگر زندگی میں کوئی بڑا سودا کرنا ہو، کوئی موبائل فون، موٹر سائیکل یا گاڑی خریدنی ہو تو مہینوں تک ریسرچ کی جاتی ہے، دوستوں کے دروازے کھٹکھٹائے جاتے ہیں اور ماہرین کی رائے لی جاتی ہے تاکہ کوئی ہمیں ایک روپے کا بھی دھوکہ نہ دے سکے۔ یہ ساری تگ و دو صرف اس لیے ہوتی ہے کیونکہ وہاں ہمارا دنیاوی مال اور خون پسینے کا پیسہ لگ رہا ہوتا ہے، جس کا ادنیٰ سا نقصان بھی ہماری انا اور جیب پر بھاری گزرتا ہے۔

تعجب کی بات ہے کہ اس کے بالکل برعکس، جب معاملہ دین کا ہو، آخرت کی ابدی زندگی کا ہو، یا اسلام کے کسی قطعی حکم کا ہو، تو ہمارا پورا رویہ ہی بدل جاتا ہے۔ وہاں عقل کے سارے دریچے بند ہو جاتے ہیں۔ وہاں جو کوئی، جو کچھ بھی کہہ دیتا ہے، ہم اسے من و عن، آنکھیں بند کرکے مان لیتے ہیں۔ کوئی سوشل میڈیا کے کسی تاریک گوشے سے ایک من گھڑت بات یا ضعیف روایت شیئر........

© Daily Urdu