Qissa Zia Ul Haq Ke Intikhabat Ka Aur Mian Yaseen Wattoo Ke Gum Hone Ka
قصّہ ضیاء الحق دَور کے انتخابات اور میاں یٰسین وٹو کے گم ہونے کا
کم لوگوں کو یاد رہا ہوگا کہ ہمارے ہاں 8سال کے طویل مارشل لاء کے بعد 1985ء میں بھی عام انتخابات ہوئے تھے۔ تمام سیاسی جماعتیں ان دنوں "کالعدم" تھیں۔ اس کے باوجود جماعت اسلامی کے سوا کئی چھوٹی بڑی جماعتوں نے خود کو "تحریکِ بحالی جمہوریت (Movement for the Restoration of Democracy)" نامی اتحاد میں یکجا کررکھا تھا۔ پیپلز پارٹی کے صفِ اوّل کے نمائندہ ہوتے ہوئے غلام مصطفیٰ جتوئی مرحوم اس کے سربراہ تھے۔
مذکورہ اتحاد جسے ایم آر ڈی پکارا جاتا تھا کئی حوالوں سے ایک حیران کن اتحاد تھا۔ پیپلزپارٹی کے ساتھ اس میں تحریک استقلال بھی شامل تھی جس کے بانی ایئرمارشل اصغر خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو "کوہالہ کے پل پر پھانسی دینے" کا عہد باندھا تھا۔ اس اتحاد میں ولی خان بھی موجود تھے جن کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی کو بھٹو حکومت نے سپریم کورٹ کے ہاتھوں "پاکستان دشمن" کہلواتے ہوئے قابل تعزیر ٹھہرایا تھا۔
نظر بظاہر "لبرل او رروشن خیال" جماعتوں کے مذکورہ اتحاد میں جمعیت العلمائے اسلام بھی شامل تھی جس کے قائد مولانا مفتی محمود مرحوم بھٹو حکومت کے خلاف تحریک چلانے والے پاکستان قومی اتحاد (PNA)کے سربراہ تھے۔ مسلم لیگ کا ایک چھوٹا دھڑا بھی ملک قاسم مرحوم کی قیادت میں اس کے ساتھ تھا اور ملک قاسم کو بھٹو حکومت کے ابتدائی ایام میں بدترین پولیس تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ماضی کی تلخ ترین یادیں بھلاکر نام نہاد دائیں اور بائیں بازو کی جماعتیں مگر اب بحالی جمہوریت کی طرف یکجا تھیں۔ انہیں متحد رکھنے میں نوابزادہ نصراللہ خان کا صبر اور متانت کلیدی کردار کا حامل تھا۔
بہرحال جنرل ضیاء نے 1985ء میں انتخابات کے ذریعے قومی اور صوبائی اسمبلیاں بحال کرنے کا اعلان کیا تو ایم آر ڈی نے ان کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ وجہ اس کی یہ بتائی کہ مذکورہ انتخابات میں حصہ لینے والے افراد کیلئے حلف نامے کے ذریعے یہ اعلان کرنا ضروری تھا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے نمائندے نہیں ہیں۔ انتخابات گویا "غیر جماعتی بنیادوں " پر ہونا تھے اور ان میں شرکت کا مطلب........
