menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bangal Par Qabiz Hone Ko Behain Modi Sarkar

34 0
28.04.2026

بنگال پر "قابض" ہونے کو بے چین مودی سرکار

بھارت کے دو اہم صوبوں ویسٹ بنگال اور تامل ناڈو کی اسمبلیوں کے انتخاب کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ جو انتخاب ہورہے ہیں ان کے نتائج بھارت کی سیاست میں بھونچال لاسکتے ہیں۔ ہمارے ہاں مگر ان پر توجہ نہیں دی جارہی۔ جائز وجوہات کی بنا پر ہمارے دل ودماغ آبنائے ہرمز کی بندش کے بارے میں پریشان ہیں۔

ممکنہ طورپر بھارت میں سیاسی بھونچال کا باعث ہونے والے انتخابات کے بارے میں قارئین کو ابتدائی جانکاری فراہم کرنے کے لئے اتوار کی رات سونے سے قبل فیصلہ کیا تھا کہ صبح اٹھتے ہی ویسٹ بنگال کے بار ے میں لکھوں گا۔ ممتا بنیر جی پندرہ برس سے وہاں کی وزیر اعلیٰ منتخب ہورہی ہیں۔ تعلق ان کا ترشول کانگریس سے ہے جو شہری متوسط طبقے کی جاندار تنظیم ہے۔ ممتا بنیر جی نے دن رات کی محنت سے اسے نہایت متحرک رکھا ہے۔ مسلسل 15برس حکومت میں رہتے ہوئے سیاسی جماعتیں اپنے دیرینہ حامیوں کو بھی مایوس کرنا شروع ہوجاتی ہیں۔ ممتا بنیر جی اور ان کی جماعت بھی اس سے محفوظ نہیں رہیں۔ نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی نے مگر جس جنونی اندازمیں آر ایس ایس کی ہندوانتہا پسندی کو ترشول کانگریس کا متبادل دکھاکر انتخابی مہم چلائی اس نے بنگالیوں میں قوم پرستی کا رحجان بھڑکا دیا ہے۔ نریندر مودی اور بی جے پی کو بھارتی بنگال میں ہندی زبان بولنے والے شمالی بھارت کی نمائندہ جماعت کی حیثیت میں دیکھا جارہا ہے جو ہندوانتہاپسندی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔

ویسٹ بنگال کی انتخابی سیاست میں 40فی صد سے زیادہ حلقوں میں آباد مسلمان اگر یکجا ہوکر کسی ایک جماعت کے ساتھ ہوجائیں تو اس کی جیت یقینی ہوجاتی ہے۔ اس حقیقت کو........

© Daily Urdu