menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Falasteen: Taqat, Taqseem Aur Mazahmat

28 0
29.03.2026

فلسطین: طاقت، تقسیم اور مزاحمت

تاریخ کبھی سیدھی لکیر میں نہیں چلتی، یہ دائرے بناتی ہے، موڑ لیتی ہے اور بعض اوقات اپنے ہی فیصلوں کا الٹا نتیجہ پیدا کر دیتی ہے۔ فلسطین کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ایک طرف فلسطین لبریشن آرگنائزیشن ہے جس نے دنیا کو سفارتکاری کے ذریعے قائل کیا، دوسری طرف حماس ہے جس نے بندوق کو ہی راستہ سمجھا اور تیسری طرف حزب اللہ ہے جو لبنان کی سرزمین سے اٹھ کر پورے خطے کی طاقت کی علامت بن گئی۔ لیکن ان تینوں کہانیوں کے بیچ ایک مشترک دھاگہ ہے: طاقت، خوف اور عالمی مفادات۔ یہ کہانی وہ ہے جس میں دوست دشمن بنتے ہیں اور دشمن کبھی کبھی غیر محسوس طریقے سے ایک دوسرے کو طاقت دیتے ہیں۔

1964ء میں جب عرب لیگ نے فلسطینیوں کو ایک پلیٹ فارم دینے کے لیے پی ایل او بنائی تو شاید کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ تنظیم ایک دن پوری دنیا میں فلسطینیوں کی نمائندہ بن جائے گی۔ پھر 1967ء کی جنگ آئی، عرب دنیا ہار گئی اور اس شکست نے ایک نئی قیادت کو جنم دیا۔ یاسر عرفات سامنے آئے، ایک ایسے لیڈر کے طور پر جس نے بندوق اور سفارتکاری کو ایک ساتھ چلایا۔ وہ کبھی اردن کے کیمپوں میں نظر آتے، کبھی لبنان کی پہاڑیوں میں اور کبھی اقوام متحدہ کے اسٹیج پر۔

پھر وہ لمحہ آیا جب اقوام متحدہ نے انہیں بطور مبصر مدعو کیا۔ یاسر عرفات نے وہاں کھڑے ہو کر تاریخ کا ایک ایسا جملہ کہا جو آج بھی گونجتا ہے: "میرے ایک ہاتھ میں زیتون کی شاخ ہے اور دوسرے میں بندوق، آپ زیتون کی شاخ کو گرنے نہ دیں"۔

یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا، یہ پوری........

© Daily Urdu