menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Fatima Jinnah, Ayub Khan Aur Aik Vote Ki BD Memberi

19 1
11.02.2026

میرے پاس بہت عرصے تک ایک قیمتی امانت محفوظ رہی، محترمہ فاطمہ جناح کا وہ خط جو انہوں نے سن انیس سو پینسٹھ میں میرے والد محترم کو بی ڈی ممبر منتخب ہونے پر مبارکباد کے طور پر لکھا تھا۔ وہ خط برسوں میری ڈائری کے اوراق میں دبا رہا، جیسے تاریخ کی کوئی سانس لیتی ہوئی نشانی ہو۔ آج میں اسے تلاش کرنے کی بہت کوشش کرتا ہوں مگر وہ کہیں کاغذوں کے ڈھیر میں گم ہو چکا ہے۔ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خط صرف کاغذ نہ تھا بلکہ ایک عہد، ایک خواب اور ایک کردار کی گواہی تھا، جو اب یادوں کی دھند میں چھپ گیا ہے، مگر اس کی خوشبو آج بھی میرے دل میں زندہ ہے۔

یہ خط والد صاحب جناب گلستان خان نے ایک خزانے کی صورت برسوں اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ یہ خط نہ تھا، گویا ہفت اکلیم تھی۔ اس خط سے قائد اعظمؒ کی خوشبو آتی تھی اور یہ اصل مسلم لیگ کی تاریخ تھی، وہ مسلم لیگ جس کی قائد اعظم نے اپنے ہاتھوں سے بنیاد رکھی۔

یہ کہانی پنجاب اور سرحد کے سنگم پر آباد ہمارے قدیم گاؤں کے اس بازار سے شروع ہوتی ہے جہاں سن انیس سو پینسٹھ میں سیاست صرف اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ غیرت، وقار اور عوامی خدمت کا نام تھی۔

انہی دنوں ایک صبح بازار میں ایک دراز قد، مضبوط جسامت کے بزرگ، جن کی عمر کوئی چھتیس برس کے لگ بھگ ہوگی، ہاتھ میں کلہاڑی لیے بازار کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک چکر لگا رہے تھے اور بلند آواز میں للکار رہے تھے:

"ہے کوئی مرد کا بچہ جو ہمارے........

© Daily Urdu