Wo Maa Jo Maa Na Rahi
گذشتہ روز میڈیا اور اخبارت میں یہ خبر سن اور پڑھ کر کلیجہ منہ کو آگیا۔ ذہن سن ہو کر رہ گیا کہ کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے؟ یہ واقعہ صرف ایک خبر نہیں بلکہ اس پورے عہد کے ضمیر پرایک لرزہ طاری کردینے والا سوال ہے۔ یہ تو سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ کوئی عورت اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کا گلہ گھونٹ سکتی ہے؟ ان کے معصوم جسموں کو آگ لگا سکتی ہے؟ ان کو ویران نالے کی مٹی میں دبا سکتی ہے؟ ماں ممتا اور پھرقتل ایک سوال جو پورے معاشرے کو کٹہرے میں کھڑا کردیتا ہے کیونکہ حقیقت میں ایسے واقعات محض انفرادی جرم نہیں بلکہ سماجی ناکامیوں کی اجتماعی دستاویز بن جاتے ہیں۔ خبر کے مطابق ٹک ٹاک پر ہونے والی ایک دوستی نے تین معصوم بچوں کی جان نگل لی۔ سرائے عالمگیر سے تعلق رکھنے والی ایک ماں عشق کے جنون میں اندھی اور پاگل ہو کر بھمبر کے رہائشی بابر نامی اپنے آشنا کے ساتھ گھر سے فرار ہوگئی۔ تحقیقات کے مطابق خاتون نے اپنے آشنا کے ساتھ مل کر اپنے ہی تین معصوم بچوں کو بےدردی سے قتل کیا اور لاشیں ویران نالے میں چھپا دیں۔ بچوں کے والد کی اطلاع پر پنجاب پولیس نے اس علاقے میں کامیاب کاروائی کرتے ہوئے ملزم بابر اور اس خاتون کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان کی نشاندہی پر پولیس نے تینوں معصوم بچوں کی لاشیں ویران نالے سے برآمد کرلیں۔ یہ واقعہ صرف ایک قتل کا نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور اخلاقی زوال کا دردناک ثبوت بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عشق اتنا اندھا ہو سکتا ہے کہ ماں اپنی ہی گو اپنے ہاتھوں ہی اجاڑ لے؟ یہاں ہمیں عشق یا محبت کی بات نہیں بلکہ بدکرداری اور جنسی........
