menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Chanakya, Khula Dimagh Ya Khud Gharz Chalaki?

20 0
21.05.2026

چانکیہ، کُھلا دماغ یا خود غرض چالاکی؟

چانکیہ، ایک نام، ایک ذہن، ایک فلسفہ۔ اگر کبھی تاریخ نے کسی شخص کو "دماغ" کہہ کر یاد رکھا تو وہ شاید چانکیہ ہی ہے۔ وہ نہ بادشاہ تھا، نہ جرنیل، نہ صوفی اور نہ ہی شاعر، لیکن پھر بھی تاریخ کے عظیم ترین کرداروں کی صف میں شمار ہوتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ بادشاہوں کو بناتا تھا، ان کی سلطنتوں کی بنیاد رکھتا تھا اور پھر ان کی سیاست، سفارت، معیشت اور جاسوسی تک کو اپنی انگلیوں پر نچاتا تھا۔ اسے کوتلیہ بھی کہا جاتا ہے، وشنو گپت بھی۔ لیکن دنیا اُسے چانکیہ کے نام سے جانتی ہے۔ وہ ٹیکسلا کا ایک استاد تھا، لیکن جب اس نے موریا سلطنت کی بنیاد رکھی، تو یہ ثابت کر دیا کہ دماغ کے زور پر دنیا کی تقدیریں بدلی جا سکتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ صرف ایک ذہین استاد تھا؟ یا ایک چالاک، موقع پرست، سخت گیر اور بعض صورتوں میں غیر انسانی کردار؟

چانکیہ کی زندگی کا ایک واضح مقصد تھا: نند خاندان کا خاتمہ اور ایک متحدہ، طاقتور، منظم بھارت کا قیام۔ یہ خواب اس نے اکیلے دیکھا اور اکیلے ہی نہیں بلکہ پورے عزم و تدبیر کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ چانکیہ نے نند راج کو، جو ایک بدنام اور عوام دشمن حکمران سمجھا جاتا تھا، نہ صرف شکست دی بلکہ اسے صفحۂ ہستی سے مٹا دیا۔ اس کے بعد اس نے چندر گپت موریہ جیسے ایک عام لڑکے کو اٹھایا، اسے تعلیم دی، تربیت دی، اسے بادشاہ بنایا اور پھر اس کے پیچھے کھڑے ہو کر پوری سلطنت کو چلا کر دکھایا۔ وہ اپنی ذات میں ایک "کنگ میکر" تھا۔

اس کی سب سے مشہور کتاب "ارتھ شاستر" ہے، جو آج بھی سیاسیات، ریاستی نظم، اقتصادیات، سفارت، خفیہ کاری، عدلیہ، فوجی حکمت........

© Daily Urdu