Shaala Hayati Hovi
13 ستمبر کو ماسی منور بھی چلی گئیں، وہیں جہاں اماں چلی گئیں، ابا چلے گئے، جدھر ہم سب نے اپنے اپنے وقت پر جانا ہے۔ وادیِ سون میں سردیاں پہاڑوں سے اترتی ہیں۔ پہلے سکیسر کی چوٹی پر دھند کا ہلکا سا دوپٹہ آتا ہے، پھر رات کو کھیتوں پر کورا پڑتا ہے اور صبح گندم کی نئی کونپلیں چاندی کی طرح چمکنے لگتی ہیں۔ انگہ کے کچے گھروں کی چھتوں سے اپلوں کا دھواں اٹھتا ہے اور گلیوں میں وہ خاموشی اتر آتی ہے جو صرف پہاڑی گاؤں کے مقدر میں لکھی گئی ہے۔
برسوں پہلے انہی دنوں کی ایک صبح صحن کا لکڑی کا دروازہ چرچرایا۔
میں ابھی اتنا چھوٹا تھا کہ دروازے کی کنڈی تک میرا ہاتھ نہیں پہنچتا تھا۔ سامنے وہ کھڑی تھیں۔ چار بہنوں اور ماموں عزیز سب سے بڑی، سبز چادر میں لپٹی ہوئی، رات بھر کے سفر کی گرد پلکوں پر، ایک ہاتھ میں کپڑے کی پوٹلی اور دوسرے ہاتھ سے چادر کا پلو سنبھالے ہوئے اور چہرے پر وہ مسکراہٹ جو میں نے پھر عمر بھر ان کے چہرے سے اترتے نہیں دیکھی۔ یہ مسکراہٹ زور سے نہیں ہنستی تھی۔ یہ بس چہرے پر ٹھہری رہتی تھی، جیسے کسی طاق میں دیا رکھا ہو۔
انگہ وادی نمک کے پہاڑوں کے بیچ ایک سبز کٹورا ہے۔ ایک طرف اُچھالی کی کھاری جھیل ہے جس کا پانی دھوپ میں سیسے کی طرح چمکتا ہے اور جس کے کنارے سردیوں میں پردیسی پرندے اترتے ہیں۔ دوسری طرف کھبیکی اور جھالر اور ان کے گرد سیڑھی دار کھیت جن میں گندم، چنے اور سرسوں کی زرد چادر باری باری بچھتی ہے۔ پھلائی اور کیکرکے کٹھور درخت، چٹانوں سے پھوٹتے چشموں کا میٹھا پانی، لوکاٹ کے باغ اور ان سب کے اوپر سکیسر کا سایہ ہے۔
اس مٹی کے لوگ بھی اس مٹی جیسے ہیں۔ باہر سے سخت اور کھردرے، اندر سے چشمے کی طرح میٹھے۔ کم بولنے والے، بہت سہنے والے اور مہمان کے آگے اپنا آخری نوالہ رکھ دینے والے۔
ماسی اسی مٹی کی بیٹی تھیں۔ ان کے وجود میں یہ ساری وادی سمٹ آئی تھی۔ چشمے کی مٹھاس، پہاڑ کا صبر اور کھیت کی خاموش محنت۔
گجک والی پوٹلی کھلی تو صحن میں تل اور گڑ کی وہ خوشبو پھیل گئی جس کا میں سال بھر انتظار کرتا تھا۔ خالہ جی نے ایک بڑا ٹکڑا توڑا، اسے ہتھیلی پر رکھ کر آہستہ سے میری طرف بڑھایا اور کہا، "پُتر، یہ تیرے لیے رکھی تھی"۔
برسوں بعد سمجھ آئی کہ اس ایک جملے میں ان کی پوری سیرت بند تھی۔ جو کچھ ان کے پاس تھا، وہ کسی اور کے لیے رکھا ہوا تھا۔
بچے کی یادداشت بھی عجیب ہوتی ہے۔ اسے یاد رہتا ہے کہ گجک کس نے دی اور یہ کہ میں نے طارق بھائی، رفعت اور کلثوم سے زیادہ کھانی ہے، مگر یہ یاد نہیں رہتا کہ دینے والے نے خود کھائی یا نہیں۔ بہت بعد میں، جب میں خود گھر بسا چکا تھا، ایک دن........
