menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Geo Asif Hassan

34 0
26.10.2026

لندن کے معروف ترین ہوٹل گروونر ہاؤس میں رات ڈھل رہی تھی۔ اسٹیج پر ایک ستر برس کا آدمی کھڑا تھا جسے ابھی ابھی پرائیڈ آف برٹن کا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ملا تھا۔ فلپ گلینسٹر اور اینا فریل نے ٹرافی اس کے ہاتھ میں دی۔ تالیاں بجیں۔ معاملہ ختم ہونا چاہیے تھا۔

مگر پھر اسٹیج کے ایک کونے سے لوگ آنا شروع ہوئے۔

ایک، دو، پانچ، دس، انیس۔ سب سے چھوٹی ازابیل تھی، عمر دس برس۔ سب سے بڑی لارا، عمر تینتالیس۔ یہ سب ایک قطار میں اس آدمی کے گرد کھڑے ہو گئے۔ ان انیس لوگوں میں ایک بات مشترک تھی۔ ہر ایک کے سینے میں اس آدمی کے ہاتھوں کا کام دھڑک رہا تھا۔ کسی کا دل اس نے مرمت کیا تھا، کسی کے سینے میں نیا دل رکھا تھا۔

پکے رنگ کے اس شخص نے جیب سے ایک بڑا سا رومال نکالا اور اس میں اپنے آنسو جذب کیے۔ پھر بڑی مشکل سے بولا، "اب میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ آپ نے اتنے سارے لوگوں کی گواہیاں سن لیں۔ میں نے کچھ خاص نہیں کیا، میں تو بس اپنا کام کر رہا تھا"۔

برطانیہ کے بہت سے بوڑھوں کو یاد آیا جب برسوں پہلے ایک ٹی وی شو میں نکولس ونٹن کے گرد وہ لوگ کھڑے ہو گئے تھے جنہیں اس نے بچپن میں نازیوں سے بچایا تھا۔

اس آدمی کا نام آصف حسن ہے۔ پاکستانی نژاد برطانوی۔ بچوں کے دل کا سرجن۔

انیس سو پچانوے میں وہ نیو کاسل کے فری مین ہسپتال میں کنسلٹنٹ سرجن بنے۔ تیس برس تک بچوں کے دل کی سرجری کے شعبے کے سربراہ رہے۔ اسی سال ستر برس کی عمر میں ریٹائر ہوئے۔ اس عرصے میں انہوں نے چار ہزار سے زائد اوپن ہارٹ آپریشن کیے، جن میں تین ہزار کے قریب میں وہ خود سربراہ سرجن تھے۔ ان کا اپنا اندازہ ہے کہ تقریباً چار سو بار انہوں نے کسی بچے کے سینے سے مرتا ہوا دل نکال کر کسی اور کا دل اس میں رکھا۔ ان کا ایک دوست کہتا ہے کہ عروج کے دنوں........

© Daily Urdu