menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Zehni Aloodgi

27 0
19.10.2026

ہم روزانہ اپنے جسم کی صفائی کے لیے وقت نکالتے ہیں، مگر عجیب بات ہے کہ جس ذہن کے ساتھ ہمیں پورا دن گزارنا ہوتا ہے، اسے اکثر گرد و غبار میں پڑا رہنے دیتے ہیں۔ صبح آنکھ کھلتے ہی ہم آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتے ہیں، بال سنوارتے ہیں، لباس درست کرتے ہیں، خوشبو لگاتے ہیں اور یوں محسوس کرتے ہیں جیسے دن کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو گئے ہوں۔ مگر کیا واقعی ہم تیار ہوتے ہیں؟ چہرہ تو دھلا ہوتا ہے، مگر ذہن میں گزشتہ روز کی شکایتیں، ناکامیوں کی تلخی، لوگوں سے ناراضی، مستقبل کا خوف اور اپنے بارے میں منفی خیالات جوں کے توں موجود ہوتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہم دن کا آغاز کتنی صفائی سے کرتے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے اندر جمع ہونے والی ذہنی گرد کو صاف کرنے کے لیے کیا کرتے ہیں؟

انسان کی سب سے بڑی مشکل اکثر وہ حالات نہیں ہوتے جن میں وہ زندگی گزار رہا ہوتا ہے، بلکہ ان حالات کے بارے میں اس کا بنایا ہوا ذہنی تصور ہوتا ہے۔ ایک ہی واقعہ دو افراد کے سامنے پیش آتا ہے، ایک اسے آزمائش سمجھ کر راستہ تلاش کرتا ہے اور دوسرا اسے اپنی تباہی کی ابتدا سمجھ لیتا ہے۔ فرق واقعے میں نہیں، نگاہ میں ہوتا ہے۔ ہم بہت جلد فیصلہ کر لیتے ہیں کہ فلاں شخص میری زندگی کی مشکل ہے، فلاں رشتہ میرے سکون کا دشمن ہے، دفتر کے لوگ میرے خلاف ہیں، کاروبار نہیں چلتا تو قسمت خراب ہے، گھر میں اختلاف ہے تو دوسرے قصوروار ہیں۔ کبھی کبھی ہم اپنے آپ کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم میں قابلیت ہی نہیں، ہمارے نصیب میں کامیابی نہیں، ہم دوسروں جیسے ذہین یا باصلاحیت نہیں۔ یوں ایک خیال دوسرے خیال کو جنم دیتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہمارا ذہن شکایتوں کا ایسا کمرہ بن جاتا ہے جس میں کھڑکیاں تو ہوتی ہیں مگر ہم انہیں کھولنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔

اگر ہر مشکل کو اپنی کمزوری کی دلیل سمجھ لیا جائے تو انسان کوشش کرنے سے پہلے ہی شکست تسلیم کر لیتا ہے۔ اگر ہر اختلاف کو دشمنی کا نام دے دیا جائے تو تعلقات اصلاح کے بجائے انا کی جنگ بن جاتے ہیں۔ اگر ہر ناکامی کو قسمت کا فیصلہ سمجھ لیا جائے تو انسان اپنی خامیوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ذہنی تربیت ہماری زندگی کے رخ........

© Daily Urdu