Pachas Baras Ke Baad
اک آئینہ ہے جس میں میرے خال و خد بڑے واضح ہیں ان پہ ابھی گزرے برسوں کی دھول نہیں جمی۔ اتنی نہیں جمی جتنی جم جایا کرتی ہے۔ یہ شاید آسودگی ہے، آگہی ہے یا دور حاضر کی سہولیات کا ثمر کہ اب بدن بہت جلدی خاک نہیں ہوتے۔
یہ عکس مجھ سے سرگوشیاں کرتا ہے آؤ مجھے دیکھو مجھے کھوجو میرے جمال کو محسوس کرو۔ یہ عکس مجھے کہتا ہے ابھی چہرے کے نقوش تنے ہیں، آنکھوں میں چمک ہے اور عدسے ابھی دھندلے نہیں پڑے جہاں کچھ دھند ہے وہاں نفیس سی عینک شخصیت کا وقار بن کر ابھرتی ہے۔ ابھی رنگ بہار بن کر کھلتے ہیں، ابھی بدن میں چستی ہے کچھ فربہی گزشتہ برسوں کی دین ہے مگر یہ ایسی نہیں کہ اس عکس کو اتنا مسخ کردے کہ پہچانی نہیں جاتی میری صورت کی مثل ٹھہرے۔
مگر عکس جو مجھ سے یہ سرگوشیاں کر رہا تھا کچھ شور سن کر دھندلا پڑ گیا ہے۔ یوں جیسے صدمے اور دکھ سے پیلا پڑ گیا ہو جیسے آئینے پہ کسی نے پتھر دے مارا ہو۔ ہاں پتھر ہی تو تھے جو پچاس برس کو ہدف بنا کر برسائے گئے تھے۔
کسی نے مجھے ایسٹروجن کی کمی کا طعنہ دے کر جھریوں اور چائے خانے میں پہنچا دیا، میری شخصیت کا جمال، ہنر، صلاحیت، خدمت، محبت سب پس پشت اور ایسٹروجن کے باٹ میں تلتی عورت صدیوں کی پدرشاہی میں حصول مقصد کا ذریعہ بنائی عورت محض ایک ٹول ٹھہری اس کا تمسخر اڑا کر اسے اس کی اوقات بتانے کی کوشش کی گئی اور کہیں یہ عکس اس دکھ کی شدت سے تڑخ گیا کہ اسے ٹیسٹرون اور تناؤ کی کمی کا پتھر مار مار کر عمر بھر کی ریاضت کو خاک میں ملا دیا گیا۔
انسانیت کا........
