Zindagi Ke Karb Aur Insani Rishte
زندگی کے کرب اور انسانی رشتے
بہت سال پہلےایک آرگنائزیشن میں بحثیت میڈیکل ڈائرکٹر کام کرتے ہوئے امبر اور میں نے ارادہ کیا کہ سارے میڈیکل سٹاف کو اپنے گھر رات کے کھانے پر بلایا جائے اور روایتی پاکستانی کھانوں سے تواضع کی جائے۔ ہم فشرز میں رہتے ہیں جو مڈویسٹ کا حصہ ہے اور شکاگو یہاں کا سب سے بڑا شہر ہے۔ امریکہ کا یہی علاقہ سرد ترین لیکن خاندانی طور پر مستحکم جگہ ہے۔ اس علاقے میں سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں طویل، تاریک اور سرد ترین ہوتی ہیں۔ سردیوں کی ہی رات تھی اور سب لوگ وقت پر پہنچ گئے لیکن ایک عمر رسیدہ ڈاکٹر اور اُن کی اہلیہ کو آنے میں بہت دیر ہوگئی۔ سب بہت جُزبز تو ہوئے لیکن امریکی اخلاقیات کچھ مختلف ہیں اور ایسے میں کسی نے کچھ نہیں کہا۔ خدا خدا کرکے وہ دونوں پہنچے اور ہم نے کھانا چُن دیا۔
جاڑے میں آتش دان کی آگ بہت بھلی لگتی ہے اور سردیوں کے دنوں میں عموماََ کھانے کے بعد لوگ عمومی بات چیت کیلئے آتش دان کے پاس بیٹھ جاتے ہیں۔ کسی نے شاید اُن کے دیر سے آنے کا کچھ تذکرہ کیا۔ شوہر نے بتایا کہ وہ دونوں فشرز میں نہیں رہتے اور ایک دور دراز کے شہر کے کلینک میں کام کرتے ہیں اس لئیے اس جگہ میں بہت آنے کا اتفاق نہیں ہوتا لیکن اسی علاقے کے آس پاس ان کا ایک بیٹا دفن ہے اور ہمارے ہاں آنے سے پہلے اپنے بیٹے کی قبر پر چلے گئے تھے۔ مجھے خیال ہوا کہ شاید جواں مرگی کی وفات تھی لیکن مجھے بتانے لگے کہ بیٹا شیرخوارگی یا کہیں بہت بچپن میں وفات پا گیا اور اب تو شاید پچاس پچپن برس ہونے کو آئے لیکن ماں باپ کے دل سے........
