Basant Ne Lahorion Ke Dil Jeet Liye, Ehtejaj Ki Call Nakam
لاہور نے ایک بار پھر اپنی ثقافت سے محبت ثابت کر دی، آسمان پر رنگ اڑے تو شدت کی صدائیں مدھم ہوگئیں، لاہور ہمیشہ سے خوشیوں، رنگوں اور ثقافتی سرگرمیوں کا گہوارہ رہا ہے۔ اس شہر کے باسی اپنی زندہ دلی اور تہواروں سے والہانہ محبت کے باعث دنیا بھر میں پہچانے جاتے ہیں۔ طویل عرصے کی خاموشی کے بعد جب رواں سال لاہور کے آسمان پر ایک بار پھر رنگ برنگی پتنگوں نے جلوہ گر ہو کر بسنت کا پیغام دیا تو شہریوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔
برسوں بعد بہار کے اس خوش رنگ موقع پر ہر طبقہ فکرکے افراد نے تہوار میں بھرپور شرکت کی، یوں معلوم ہوا جیسے شہر کی گلیاں اور چھتیں ایک بار پھر پرانے دور کی رونقوں سے بھر گئی ہوں۔ بسنت محض ایک کھیل نہیں بلکہ لاہور کی تہذیبی پہچان ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ تہوار موسمِ سرما کے اختتام اور بہار کی آمد کا استعارہ رہا ہے۔ شاہی قلعے سے لے کر والٹن تک، اندرون شہر کی چھتوں سے لے کر نئی آبادیوں تک، ہر جانب خوشیوں کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے رنگ، موسیقی، ہنسی اور قہقہوں سے مل کر یہ ثابت کر دیا کہ بسنت فقط ماضی........
