menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Basant: Shor Bohat, Taraqi Sifar

7 12
07.02.2026

ہر معاشرہ اپنی ترقی کا اندازہ نعروں، ہجوم اور وقتی جوش سے نہیں بلکہ انسانی جان کے احترام، قانون کی بالادستی اور اجتماعی ذمہ داری سے لگاتا ہے۔ بسنت کے معاملے میں بدقسمتی سے ہم نے ترقی کا پیمانہ ہی الٹا منتخب کیا۔ ہم نے شور کو خوشی، ہنگامے کو ثقافت اور چند دن کی وقتی سرگرمی کو معاشی فائدہ سمجھ لیا۔ سوال مگر آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: بسنت نے اس ملک کو آخر دیا کیا؟

بسنت کے دنوں کا منظرنامہ کسی تہوار سے زیادہ ایک آزمائش کا سا رہا۔ چھتوں پر بے ہنگم ہجوم، گلیوں میں دھاتی ڈور سے کٹتی گردنیں، موٹر سائیکل سواروں کے لیے موت کے پھندے، فائرنگ، کرنٹ لگنے کے واقعات اور ہسپتالوں میں بھرے ایمرجنسی وارڈ، یہ سب کسی خوشی کی علامت نہیں بلکہ اجتماعی غفلت کا اعلان تھے۔ اگر ہر سال ایک ہی طرح کے حادثات ہوں تو انہیں اتفاق نہیں، رویہ کہا جاتا ہے۔

بسنت کے حامی اکثر دلیل دیتے ہیں کہ یہ تہوار خوشی بانٹتا ہے۔ مگر خوشی وہی بامعنی ہوتی ہے جس میں دوسروں کا دکھ شامل نہ ہو۔ وہ ماں جس کا بیٹا بسنت کی ڈور سے جان گنوا بیٹھا، وہ بچہ جو چھت سے گر کر معذور ہوگیا، وہ خاندان جو اچانک ایک کفیل سے محروم ہوگیا، ان کے لیے بسنت کبھی خوشی نہیں تھی۔ جو سرگرمی کسی ایک طبقے کے لیے جشن اور دوسرے کے لیے جنازہ بن جائے، وہ تہوار نہیں کہلا سکتی۔

معاشی فائدے کا بیانیہ بھی حقیقت کے........

© Daily Urdu (Blogs)