Kitab Tehzebon Ki Maa: Kulliyat e Iqbal (17)
کتاب تہذیبوں کی ماں: کلیاتِ اقبال (17)
ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں زندہ ہونے اور محض سانس لینے کے درمیان فرق بتدریج دھندلا ہوتا جا رہا ہے۔ جسمانی حیات کو زندگی سمجھ لینے کی یہ غلطی ہماری فکری، تہذیبی اور روحانی کمزوریوں کی جڑ ہے۔ اسی پس منظر میں جب احمد جاوید صاحب یہ کہتے ہیں کہ جو فرد اپنے اندر اقبالؒ سے نسبت پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتا وہ ہماری تہذیبی اور دینی اصطلاح میں مردہ ہے، تو یہ جملہ محض ایک ادبی یا خطیبانہ اظہار نہیں بلکہ ایک گہری تہذیبی تشخیص ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی کا اصل معیار حرکت، شعور، خود آگہی اور مقصدیت ہے اور اقبالؒ کی فکر ان تمام عناصر کا ایک جامع مظہر ہے۔ اقبالؒ سے نسبت پیدا کرنا دراصل اپنے اندر اس آگ کو روشن کرنا ہے جو انسان کو محض مقلد سے خالقِ فکر بناتی ہے، اسے ہجوم کا حصہ بننے کے بجائے تاریخ کا کردار بننے پر آمادہ کرتی ہے۔
اقبالؒ کی کلیات محض شاعری کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل فکری نظام ہے، ایک ایسا نظام جو انسان کو اس کی اصل حقیقت سے آشنا کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں جو "خودی" کا تصور ہے، وہ دراصل انسان کے اندر پوشیدہ ان امکانات کی دریافت ہے جو اسے اشرف المخلوقات........
