menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aik Tareekhi Kirdar: Confucius

19 0
22.05.2026

ایک تاریخی کردار: کنفیوشس

تاریخ میں چند ہی ایسے انسان ہوتے ہیں جو خود تو خاموش رہتے ہیں، لیکن ان کی باتیں صدیوں تک گونجتی رہتی ہیں۔ جن کی آنکھوں میں نہ کوئی سیاسی خواب ہوتا ہے، نہ مذہبی دعویٰ، نہ جنگوں کی خواہش، نہ جنت کے وعدے، بس ایک فکری ٹھہراؤ، ایک تہذیبی توازن اور انسان کو انسان بنانے کی ایک غیر متزلزل کوشش۔ کنفیوشس بھی ایسا ہی ایک کردار ہے۔ وہ کوئی بادشاہ نہ تھا، کوئی پیغمبر نہ تھا، نہ کوئی سپہ سالار، مگر اس کا فکر، اس کا نظامِ اخلاق اور اس کی زبان نے چینی تہذیب کا ایسا نقشہ کھینچا کہ آج بھی چین کی روح اسی کے سانچے میں سانس لیتی ہے۔

کنفیوشس پانچویں صدی قبل مسیح میں چین کے ایک چھوٹے سے علاقے "لو" میں پیدا ہوا۔ باپ جلد فوت ہوگیا اور غربت نے اُس کے بچپن کو سختی میں ڈھال دیا۔ مگر علم کی پیاس نے اُسے بڑے شہروں، بڑے علما اور بڑے دانشوروں کی دہلیز پر پہنچا دیا۔ وہ پڑھتا رہا، سنتا رہا، نوٹ کرتا رہا، تاریخ، شاعری، فلسفہ، تہذیب، سیاست، ہر چیز اس کے شعور کا حصہ بنتی گئی۔ لیکن وہ صرف پڑھنے والا نہیں تھا۔ وہ ایک سوال کنندہ، ایک مصلح اور ایک نظام کا خواب دیکھنے والا تھا۔

کنفیوشس کے زمانے کا چین خانہ جنگیوں، بدنظمی، کرپشن، درباری سازشوں اور اخلاقی انحطاط کا شکار تھا۔ حکمران محلات میں مست، عوام غربت میں بے حال اور ریاست کے اصول بکھرتے جا رہے تھے۔ کنفیوشس نے اس بکھرتی........

© Daily Urdu (Blogs)