اس بار تو __ حد ہی ہو گئی!
’’ہم گاڑی میں بیٹھ گئے ہیں، کل کسی وقت گھر پہنچ جائیں گے۔ دعا کرنا، سفر خیر خیریت سے کٹے۔‘‘ کچھ اس قسم کی بات شہید ہونے والوں نے شہادت سے چند منٹ پہلے اپنے لواحقین سے کی ہو گی اور گھر بھر میں عید کی خوشیاں تین دن پہلے ہی شروع ہو گئی ہوں گی۔ 27 مئی کو آنے والی عید ان کے گھر دو دن پہلے ہی آ جائے گی۔ لیکن دعائیں قبول نہ ہوئیں، گھر جانے کا سفر ابھی شروع ہی نہیں ہوا تھا کہ موت نے جھپٹ لیا۔ سکیورٹی اہلکار ، سرکاری ملازم ، عام شہری، ان کے بچے سبھی اس دھماکے میں شہید ہوئے جو گئے روز جعفر ایکسپریس کی سواریوں پر کیا گیا۔ اردگرد کی عمارتیں بھی تباہ ہو گئیں۔ ایک فلیٹ کے تمام مکین ختم ہو گئے۔ دھماکہ کوئٹہ چھائونی کے کنارے واقع چمن پھاٹک پر ہوا۔ دھماکہ کرنے والے وہی بی ایل اے کے دہشت گرد تھے جن کو بی جے پی اور افغان طالبان ہتھیار بھی دیتے ہیں، پیسہ بھی، تربیت بھی اور پناہ گاہیں بھی اور پاکستان جا کر دہشت گردی کرنے کی راہداری سہولتیں بھی۔ بلوچستان حکومت نے شہدا کی تعداد 16 بتائی ہے۔ میڈیا اور عوام، کوئی بھی اس گنتی کو درست نہیں مان رہا۔ تعداد کم کر کے بتانے کی پالیسی سے شاید دہشت گردی میں کمی ہو جاتی ہے؟ ____فوج اور اس کے ادارے دو صوبوں میں بظاہر ختم........
