menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

ٹیکس کی رسید، گٹر کا پانی

17 0
monday

کراچی کے شہری کو ایک اور خوش خبری سنائی گئی ہے عالمی بینک نے سندھ میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی بہتر بنانے اور بلدیاتی سہولتوں کے لیے پندرہ کروڑ ڈالر کی مالی معاونت منظور کر لی ہے خبر اچھی ہے منصوبہ بھی اہم ہے مگر کراچی کا عام آدمی ایک سوال پوچھ رہا ہے حضور! ٹیکس کی رسید تو مل جائے گی، گٹر کا پانی کون نکالے گا؟ یہ وہ شہر ہے جو ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے یہاں صنعتیں ہیں، بندرگاہیں ہیں، کاروبار ہیں، لاکھوں محنت کش ہیں صبح سے رات تک زندگی دوڑتی ہے مگر شہری سہولتوں کی صورتِ حال پر سوالات بھی اتنے ہی پرانے ہیں کہیں ٹوٹی سڑک ہے کہیں نکاسی آب کا مسئلہ ہے کہیں پینے کے پانی کی شکایت ہے کہیں گلیوں کی صفائی اور روشنی کا انتظام ناکافی ہے ہر علاقے کا مسئلہ ایک جیسا نہیں، مگر شہریوں کی بنیادی توقع ایک ہے وہ ٹیکس دیتے ہیں تو اس کے بدلے قابلِ اعتماد سہولتیں چاہتے ہیں۔عالمی بینک کے مطابق نئے منصوبے سے کراچی کی پچیس مقامی کونسلیں مستفید ہوں گی ان علاقوں میں تقریباً پینتیس لاکھ اسی ہزار افراد رہتے ہیں منصوبے کا ہدف پراپرٹی ٹیکس کی وصولی بہتر بنانا اور اس آمدن کا تقریباً ستر فیصد متعلقہ علاقوں کے بنیادی ڈھانچے اور خدمات پر خرچ کرنا ہے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سندھ کی مقامی کونسلیں اپنی آمدن کے لیے پچانوے فیصد سے زیادہ صوبائی حکومت کی رقوم پر انحصار کرتی ہیں یہ اعداد ایک بڑی انتظامی حقیقت سامنے رکھتے ہیں۔جب بلدیاتی ادارے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر وقت صوبائی خزانے کی طرف دیکھتے رہیں تو مقامی خودمختاری محض ایک خوب صورت لفظ بن سکتی ہے اس منصوبے کی ضرورت سے انکار نہیں، شہر کو پیسہ چاہیے، ٹیکس کا مؤثر نظام چاہیے، ریکارڈ درست ہونا چاہیے، بڑی جائیدادوں اور تجارتی املاک سے قانون کے مطابق واجب الادا رقم وصول ہونی چاہیے لیکن اصل مسئلہ صرف وصولی نہیں، اصل مسئلہ اعتماد ہے۔کراچی کا شہری کیوں یقین کرے کہ اس کی جیب سے نکلنے والا پیسہ اس کی گلی میں خرچ ہوگا؟ یہ اعتماد اشتہار سے پیدا نہیں ہوتا یہ صاف سڑک، روشن گلی، بہتر نکاسی آب اور بروقت شکایت کے ازالے سے پیدا ہوتا ہے سندھ حکومت کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا اگر پراپرٹی ٹیکس کی وصولی میں اضافہ ہوتا ہے تو متعلقہ کونسلوں کو ان کے حصے کی رقم کس طریقے سے ملے گی؟ کیا ہر علاقے کے لیے خرچ کی تفصیل عوام کو دستیاب ہوگی؟ کیا شہری جان سکے گا کہ اس کی یونین کونسل یا ٹاؤن میں کون سا منصوبہ منظور ہوا، اس کی........

© Nawa-i-Waqt