menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

بے نشاں قبر

30 0
21.10.2026

ملتان میں ایک 15 سالہ بچے وسیم کو بجلی کے کام کی ایک بڑی ورکشاپ کے مالک توقیر نے یتیم خانے کے کارندے جواد سے مل کر قتل کر دیا۔ یہ نجی یتیم خانہ یتیم بچوں کو جبری مشقت کیلئے ورکشاپوں وغیرہ کو فراہم کرتا ہے۔ مقتول اس جبری مشقت سے تنگ آ کر ورکشاپ سے بھاگ گیا تو مالک توقیر نے جبری مشقت والے ادارے کے کارندے جواد سے مل کر اس کا تعاقب کیا اور اپنی گاڑی سے کچل کر اسے ہلاک کر ڈالا۔ پنجاب بچوں سے جبری مشقت اور ان کے قتل کے واقعات میں بہت آگے نکل گیا ہے۔ گھریلو اور جبری ملازم بچے دنیا بھر میں سب سے زیادہ جن علاقوں میں ھیں ان میں پنجاب بھی آتا ھے اور اس کی ذمہ دار موجودہ حکومت نہیں ہے۔ یہ کام جنرل مشرف کے دور میں شروع ہوا اور عمران خاں کے دور میں عروج پر پہنچا، اب پتہ نہیں، موجودہ صوبائی حکومت اس المیے پر کیوں توجہ نہیں دے رہی۔ آئے روز کسی نہ کسی ملازم بچے یا بچی کے مالکوں کے ہاتھوں قتل کی خبر آتی ہے، بعد میں کیا ہوا، یہ کسی کو معلوم ہے نہ کسی کو معلوم کرنے کی خواہش ہے۔ صحافی اور رپورٹر اس خبر کا پیچھا........

© Nawa-i-Waqt