’’ام اغوا ہو گئی اے‘‘
تین چار دن پہلے صدر ٹرمپ کا بیان آیا۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ آئرلینڈ بند ہو جائے۔ اس خواہش کا ایک ہی مطلب تھا کہ شمالی آئرلینڈ جو یوکے کا حصہ ہے، الگ ہو کے آئرلینڈ کے ساتھ ضم ہو جائے۔ آئرلینڈ نام کا ملک اسی نام کے جزیرے کے بیشتر حصے پر قائم ہے جبکہ اس جزیرے کا چھوٹا سا شمال مشرقی کونہ یو کے میں شامل ہے۔ گویا سیدھے سادے معنوں میں ٹرمپ چاہتے تھے کہ یو کے کے چار یونٹوں میں سے ایک کم ہو جائے۔ یو کے کو عرف عام میں برطانیہ یا بریٹن کہا جاتا ہے گویا یہ اس ملک ہی کا دوسرا نام ہے حالانکہ اس نام کا دنیا میں کوئی ملک نہیں۔ نہ تو اقوام متحدہ کی فہرست میں، نہ کسی دوسری فہرست میں ایسا کوئی ملک موجود ہے۔ برطانیہ دراصل ایک جزیرے کا نام ہے جس میں انگلینڈ، ویلز اور سکاٹ لینڈ شامل ہیں۔ ان تینوں اکائیوں نے آئرلینڈ کی اکائی کو ملا کر سلطنت متحدہ (یوکے) قائم کی تھی۔ کچھ عرصے بعد آئرلینڈ کا بڑا حصہ، کیتھولک مذہب کی اکثریت ہونے کی وجہ سے یو کے سے الگ ہو گیا کہ مجموعی طور پر اس ملک میں پروٹسٹنٹ مذہب کی اکثریت تھی۔ گویا ایک طرح کا دو قومی نظریہ رنگ دکھا گیا۔ ٹرمپ کے بیان کے دو تین روز بعد اس سے بھی بڑی خبر آ گئی۔ یہ کہ شمالی آئرلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ویلز کے سیاسی رہنما ویلز کے........
